بجٹ منظور، اپوزیشن ناراض | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعرات کو قومی اسمبلی نے یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کا بجٹ منظور کر لیا ہے۔ تاہم حزب اختلاف کے ارکان اجلاس میں موجود نہیں تھے۔ حکومتی رکن رانا طارق جاوید نے جب قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن پر تنقید کرتے ہوئے حزب اختلاف کو بے ایمان، منافق اور بے غیرت قرار دیا تو ایوان میں ہنگامہ ہوگیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لوگ مولانا فضل الرحمٰن کو مولانا ڈیزل کہہ کر پکارتے ہیں کیونکہ کہ انہوں نے افغان جہاد سے مال کمایا۔ ان کے ایسے الزام پر حزب اختلاف کے اراکین نے احتجاج کرتے ہوئے غیر پارلیمانی الفاظ حذف کرنے کا مطالبہ کیا لیکن اسپیکر نے خاموشی اختیار کیے رکھی۔ اس پر ایوان کی دونوں جانب کے اراکین ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے ہوئے گالیاں دیتے رہے جس سے ایوان میں شدید شور شرابہ اور غل غپاڑہ ہوگیا۔ اسپیکر نے بے بسی میں مائیک بند کرادیئے۔ وزیراعظم مسکراتے رہے۔ حزب اختلاف کے تمام اراکین نے بجٹ کی دستاویزات پھینک دیں اور ایجنڈے سمیت دیگر کاغذات پھاڑ دیئے۔ حزب اختلاف کے اراکین نشستیں چھوڑ کر اسپیکر کے سامنے روسٹرم کے آگے جمع ہوگئے اور گو مشرف گو اور نو مشرف نو کے نعروں سمیت حکومت کے خلاف بھی سخت نعرہ بازی کی۔ ہنگامہ آرائی اور نعرہ بازی کے دوران اسپیکر نے حزب اختلاف کی پیش کردہ کٹوتی کی تحاریک یہ کہہ کر مسترد کردیں کہ کوئی انہیں پیش نہیں کر رہا۔ اس پر نوید قمر اور دیگر ارکان چیختے رہے کہ وہ تحاریک پیش کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح ایوان کو بلڈوز نہ کیا جائے۔ اسپیکر چودھری امیر حسین نے شور شرابے میں جب بجٹ منظور کرنے کی تحریک پیش کی تو حزب اختلاف کے تمام اراکین احتجاج کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کرکے باہر چلے گئے اور حکومت نے بجٹ منظور کرالیا۔ بجٹ کی منظوری کے بعد وزیراعظم نے ایوان سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے مشکل حالات میں بھی بہترین بجٹ دیا ہے۔ انہوں نے حزب اختلاف کے رویے پر تنقید کی اور مجلس عمل کے بارے میں کہا کہ انہوں نے حکومت سے بڑے وعدے کیے تھے جو اب پورے نہیں کر رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کا ادارہ پارلیمینٹ کے ماتحت ہے اور اس میں سکیورٹی کے معاملات زیر بحث لائے جائیں گے۔ ان کے بقول جمہوری نظام کی خاطر کبھی کڑوی گولی نگلنی پڑتی ہے اور نظام کی خاطر بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ ادھر حزب اختلاف کے اراکین بائیکاٹ کے بعد کیفے ٹیریا آئے جہاں مخدوم امین فہیم، مولانا فضل الرحمٰن ، محمود خان اچکزئی سمیت بیشر رہنماؤں نے اخباری کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پارلیمنٹ میں سرکاری ارکان کی گالم گلوچ اور ہنگامہ آرائی جنرل مشرف کے اشارے پر ہوئی ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ پارلیمنٹ کے خلاف ایک بڑی سازش ہے کیونکہ ان کے بقول حزب اختلاف قوائد کے مطابق بجٹ کی کارروائی میں شریک رہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||