عید پرسندھ میں دفعہ 144 نافذ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے صوبے بھر میں عید الاضحیٰ کے موقع پر تین روز تک دفعہ 144 نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جس کا مقصد امن امان قائم برقرار کھنا بتایا گیا ہے۔ بدھ کی شام محکمہ داخلہ کے وزیر ایم اے رؤف صدیقی نے ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اکیس سے تئیس جنوری تک اسلحہ، ڈنڈے اور لاٹھیاں وغیر لے کر چلنے پر پابندی ہوگی اور خلاف ورزی کرنے والوں کو فوری گرفتار کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ دفعہ ایک سو چوالیس کا عید اجتماعات پر اطلاق نہیں ہوگا، لیکن دیگر ہر قسم کے بلا اجازت منعقد ہونے والے اجتماعات پر پابندی برقرار رہے گی۔ انہوں نے اس موقع پر قربانی کی کھالیں جمع کرنے کے لیے متعلقہ تنظیموں کے نمائندوں کی مشاورت سے تیار کردہ ضابطہ اخلاق کی تفصیلات بتائیں اور کہا کہ کوئی بھی ادارہ یا تنظیم جو رجسٹرڈ نہیں وہ کھالیں جمع نہیں کرسکتی۔ کوئی بھی اس ضمن میں پوسٹر، پمفلٹ، بینر وغیرہ نہیں لگا سکتے۔ وزیر کے مطابق کھالیں جمع کرنے کے لیے سڑکوں پر کیمپ نہیں لگائے جائیں گے اور نہ ہی ماضی کی طرح گاڑیوں پر لاؤڈ سپیکر لگا کر یا مساجد سے کھالیں جمع کرانے کے اعلانات کیے جاسکتے ہیں اور نہ ہی گھر گھر جا کر کھالیں جمع کی جاسکیں گی۔ محکمہ داخلہ کھالیں جمع کرنے والے اداروں کو خصوصی اجازت نامہ جاری کرے گا اور متعلقہ ادارے کے کارکنوں پر لازم ہوگا کہ وہ اپنے قومی شناختی کارڈ، رجسٹرڈ ادارے کا کارڈ اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کے اجازت نامے کی نقل دکھانی لازم ہوگا۔ وزیر کے مطابق تمام ادارے کھالیں جمع کرنے کے لیے گاڑیوں، دفاتر اور علاقوں کی تفصیلات متعلقہ ٹاؤن پولیس افسر کو فراہم کرنے کے پابند ہوں گے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ دو دن قبل ان کی جماعت کے سربراہ الطاف حسین نے کارکنوں کو ہدایت کی تھی کہ سب جماعتوں سے زیادہ کھالیں جمع کرنے کا ریکارڈ قائم کریں، کیا یہ اس سلسلے کی کڑی ہے؟ اس کے جواب میں وزیر نے کہا کہ ایسا نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||