سندھ: دوٹرینوں کواڑانے کی سازش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ میں دو مقامات پر دو ریل گاڑیوں کو اڑانے کی مبینہ سازش میں دو پولیس اہلکاروں سمیت چھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ دونوں واقعات پیر کی رات حیدرآباد اور نواب شاہ کے درمیان مین ریلوے لائن پر ہوئے۔ پہلا واقعہ ٹنڈو آدم میں خلیق کالونی کے ریلوے کراسنگ پر آٹھ بج کر چھتیس منٹ پر ہوا جس میں دو افراد زخمی ہوگئے۔ آس پاس کے لوگوں کا کہنا ہے کہ دھماکے کی آواز اتنی شدید تھی کہ دس میل تک سنائی دی۔ ٹنڈوآدم پولیس نے واقعے کو دہشت گردی قراردیا ہے۔ جائے وقوعہ سے کمپیوٹر سے کمپوز شدہ ایک تحریر ملی ہے جس میں سندھ نیشنل لبریشن فرنٹ نامی ایک گمنام تنظیم نے واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے اور متنبہ کیا ہے کہ اگر متنازعہ گریٹر تھل کنال اور کالا باغ ڈیم کی تعمیر نہ روکی گئی تو بعض اہم مقامات پر مزید دھماکے کیے جائیں گے۔ اس سے پہلے سندھ میں اس نام کی کسی تنظیم کا نام نہیں سنا گیا۔ ٹنڈو آدم کے اسٹیشن ماسٹر کا کہنا ہے کہ شیڈول کے مطابق لاہور کے لیے تیزگام کا یہاں سےگزرنے کا وقت آٹھ بج کر تیرہ منٹ ہے لیکن آج گاڑی آدھا گھنٹہ لیٹ تھی۔ اور دھماکہ آٹھ بج کر چھتیس منٹ پر ہوا ہے۔ نواب شاہ میں ریلوے اسٹیشن کے بیرونی سگنل کے پاس پٹڑی پر آٹھ بج کر بیس منٹ پر دھماکہ ہوا۔ جس کے نتیجے میں تحصیل پولیس آفیسر گل محمد پھل اور ان کےگن مین ناصر سمیت چار افراد زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو نواب شاہ اور ٹنڈوآدم کے ہسپتالوں میں داخل کردیا گیا ہے۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے سے دس منٹ پہلے قراقرم ایکسپریس گزر چکی تھی۔ دھماکوں کے بعد ریلوے ٹریفک معطل ہوگئی اور حکام نے پٹڑی کی مرمت کا کام شروع کردیا ہے۔ آئی جی پولیس سندھ نے کراچی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان دونوں واقعات کو دہشت گردی قرار دیا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اس میں کون ملوث ہے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||