ممبر کی گرفتاری، اسمبلی میں ہنگامہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کے روز سندھ اسمبلی میں اپوزیشن نے پیپلز پارٹی کے صوبائی رکن اسمبلی زاہد بھرگڑی کی گرفتاری کے خلاف ہنگامہ کھڑا کردیا اور نعرے بازی کی۔ قائد حزب اختلاف نثار کھڑو نے کہا کہ ایک ایم پی اے کو بے عزت کر کے عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کو ایک جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا جارہا ہے۔ پیپلز پارٹی کی خاتون رکن نزھت پٹھان کا کہنا تھا کہ ایک منتخب ایم پی اے کو بکتر بند گاڑی میں لاکر اوپر کپڑا ڈال کر دہشت گرد کی طرح عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ سپیکر کی وارننگ کو اپوزیشن ممبر نظر انداز کر کے احتجاج کرتے رہے۔ ہنگامے کی بعد سپیکر نے اجلاس بدھ تک ملتوی کردیا۔ حیدرآباد سے منتخب ہونے والے زاہد بھرگڑی کو ہفتہ کی رات کو نو بجے کے قریب حیدرآباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ وزیر قانون چودھری افتخار نے بتایا کہ ضلع جامشورو کے تھانے آمری پر درج ایکسپلوزو ایکٹ کے مقدمے میں ان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے پانچ سو کے وی کے بجلی کے پول دھماکہ سے اڑانے کی کوشش کی ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نے زاہد بھرگڑی کی گرفتاری کے خلاف جمعرات کو پورے صوبے میں احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ پی پی پی کے صوبائی صدر سید قائم علی شاھ کا کہنا تھا کہ اس روز بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھیں جائیں گی۔ اور احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ارباب رحیم ہوش کے ناخوں لیں اور اپوزیشن کے خلاف انتقامی کارروائی بند کریں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||