BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 June, 2005, 08:19 GMT 13:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وفاداریاں تبدیل کرنے کے لیے دباؤ‘
فرحین مغل
فرحین مغل نے اسمبلی اجلاس میں بجٹ پر احتجاج کیا تھا
سندھ اسمبلی میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی خواتین ارکان نے حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ انہیں سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے لیے ہراساں کیا جار ہا ہے۔

پاکستان انسانی حقوق کمیشن کے جنرل سیکریٹری اقبال حیدر نے گزشتہ روز صحافیوں کو بتایا تھا کہ سندھ میں خواتین اراکین اسمبلی کو وفاداریاں تبدیل کرنے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے۔ اور ان کو ایسی شکایات ملی ہیں کہ پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی فرحین مغل اور شمیم آرا پنہور کو سیاسی وفاداریاں تبدیل کےلیے دھمکیاں دی جا رہی ہیں اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی ایم پی اے فرحین مغل نے اقبال حیدر کے بیان کی تصدیق کی اور کہا کہ وزیر اعلیٰ کے لوگوں نے انہیں حکمران جماعت میں شمولیت کے لیے کہا ہے اور بتایا کہ ان کو یہ ’ٹارگٹ‘ دیا گیا ہے۔

فرحین مغل نے الزام عائد کیا کہ ان کو خوفزدہ کرنے کے لیے بھٹو کی برسی کے موقعہ پر ان کی گاڑی کے نیچے بم رکھاگیا تھا، اس کے علاوہ سادہ لباس میں لوگ ان کا پیچھا کر رہے ہیں، جس کے گواہ نثار کھوڑو ہیں۔

فرحین نے جن کے شوہر سرکاری ملازمت میں ہیں الزام عائد کیا ہے کہ ان کو بلاوجہ تنگ کیا جارہا ہے۔ فرحین کا کہنا ہے کہ ’میں کسی صورت دباؤ میں نہیں آؤں گی اور میں نے ان حقائق سے بینظر بھٹو کو بھی آگاہ کردیا ہے۔‘

میرپورخاص سے تعلق رکھنے والی ایم پی اے شمیم آرا پنہور نے بتایا کہ وفاداری تبدیل کرنے کے لیے انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔’مجھ پر میرے بھائیوں، اور شوھر پر بے بیناد اور جھوٹے مقدمات درج کئےگئے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ حد تو یہ ہے کہ پنہور ذات سے تعلق رکھنے والے مقامی پولیس والوں کا بھی دور دراز علاقوں میں تبادلہ کیا جا رہا ہے۔

شمیم آرا کا کہنا تھا کہ ان کو مسلسل کہا جارہا ہے کہ وہ حکمران جماعت میں شامل ہوں، ورنہ اتنے مقدمات درج کئے جائینگے جو ضمانت بھی نہیں ہوگی۔

شمیم آرا کے مطابق ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ لالچ بھی دیا جارہا ہے کہ ’ آپ حکمران مسلم لیگ میں شامل ہو جائیں، آپ کو ایڈوائیزری دی جائےگی۔‘

انہوں نے کہاکہ چند دن قبل چیف منسٹر ہاؤس سے کچھ لوگ ان کےگھر آئے تھے مگر ان کے والد نے ان کو واپس کردیا۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر ان کی لیڈر ہیں۔ وہ پارٹی نہیں چھوڑیں گی۔

وزیرعلیٰ ارباب غلار رحیم کے سیاسی ترجمان دھنی بخش پٹھان نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیُ کو کسی کی وفاداری تبدیل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ارباب غلام رحیم کو ایک سو اراکین اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کا رویہ حاصا جارحانہ ہے مگر وزیر اعلیٰ نے پھر بھی کبھی انتقامی کارروائی نہیں کی۔

دھنی بخش نے الزام عائد کیا کہ خواتین ارکان اسمبلی اپنا سیاسی قد بڑھانے کے لیے الزام تراشی کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کی کچھ خواتین اور تین چار مرد ارکان نے ان سے رابطہ کرکے حکمران جماعت میں آنے کی خواہش ظاہر کی تھی، اور کچھ مطالبات رکھے تھے۔

سیاسی ترجمان کا کہنا تھا کہ جب وزیر اعلیٰ کو اس معاملے سے آگاہ کیا گیا تو انہوں نےکہا کہ یہ لوگ اگر رضاکارانہ طو ر پر آنا چاہتے ہیں تو ٹھیک ہے۔ ورنہ تو ہمارے پاس کوئی جگہ نہیں۔

سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کے لیڈر نثار کھڑو کا کہنا ہے کہ اسمبلی کے اندر چاہے وزیر اعلیٰ سندھ پی پی پی میں دراڑیں ڈالنا اور ایسے لوگ جو اسمبلی کے اندر یا باہر زیادہ شور کرتے ہیں ان کو خاموش کرانا چاہتے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ آئندہ ماہ سے بلدیاتی انتخابات شروع ہو رہے ہیں، حکومت یقیناً ان اداروں میں اپنے لوگ منتخب کرانا چاہےگی۔ ان انتخابات کی تیاری کے لیے وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم مختلف اضلاع کا دورہ کر چکے ہیں۔ اور واضح طور پر یہ کہہ چکے ہیں کہ بلدیاتی اتخابات میں مخالفین کا صفایا ہوجائےگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد