کمیونسٹ رہنما جام ساقی رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کمیونسٹ رہنما جام ساقی کو حیدرآباد پولیس نے پیر کی رات کو رہا کردیا ہے۔ کمیونسٹ رہنما اور پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کے رکن کو ایک روز قبل ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کرکے دھماکہ خیز مادہ رکھنے کے ایک مقدمے میں ملوث کیا تھا۔ اور کسی نامعلوم مقام پر رکھا گیا تھا۔ پیر کو پولیس نے انسداد دہشت گردی کی عدالت سے ان کا سات دن کا ریمانڈ بھی لیا تھا۔ پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن کے سیکریٹری جنرل اقبال حیدر کے مطابق حکومت نے جام ساقی کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں تحقیقات کو روکنے کے لئے گرفتار کیا تھا۔ کمیشن کو اقلیت سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کے ساتھ زیادتی شکایت ملی تھی۔ان واقعات کی تحقیقات کے لئے کامریڈ جام ساقی کی قیادت میں کمیشن کے وفد نے وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کے آبائی گاؤں کھیتلاری میں جا کر تحقیقات کیں۔ اس واقعہ میں وزیر اعلیٰ سندھ کے بعض قریبی لوگ ملوث بتائے جاتے ہیں۔ جام ساقی کی گرفتاری پر ایچ آر سی سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں اور مختلف سیاسی پارٹیوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا تھا اور احتجاج کی اپیل کی تھی۔ جام ساقی نے بتایا کہ انہیں حکام نے یہ پیغام دیا کہ اپنی عمر کا خیال کرو، اپنی صحت اور بچوں کو دیکھو، پوری انسانیت کا تھیکہ کیوں اٹھایا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سے کھیتلاری کے واقع کی ایچ ار سی پی کی تحقیقات کے بارے میں پوچھ کچھ کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں رہا ہونے کے بعد پتہ چلا کہ ان پر دھماکہ خیز مادہ رکھنے مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔ مارکیٹ پولیس حیدرآباد کے ایس ایچ او عامر نے بتایا کہ کوئی ثبوت نہ ملنے پر ان کو ذاتی مچلکے پر رہا کیا گیا ہے۔ تاہم مقدمہ ختم نہیں کیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||