BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 May, 2005, 12:47 GMT 17:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں معاشی ترقی کے دعوے

وزیر آعظم شوکت عزیز
وزیر آعظم شوکت عزیزکے مطابق ان اہداف کامقصدغربت کو ہرشکل میں کم کرنا
غربت کے خاتمہ اور سماجی ترقی کے لیے پاکستان ملینیم ڈیویلپمینٹ کے اہداف پر مبنی سنہ دو ہزار چار کی رپورٹ آج پنجاب میں باقاعدہ طور پر پیش کی گئی۔

اس موقع پر پنجاب کے سیکرٹری خزانہ نے کہا کہ سنہ دو ہزار پندرہ کے لیے مقرر کیے گئے یہ اہداف کم ہیں پنجاب ان سے آگے جاسکتا ہے۔

اس ملینیم کے اہداف میں آٹھ شعبے شامل ہیں جن پر خاص توجہ دے کر عوام کی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

شدید غربت اور بھوک کا خاتمہ، سو فیصد پرائمری تعلیم کا حصول، عورتوں اور مردوں میں مساوات کا فروغ ، عورتوں کو بااختیار بنانا، بچوں کی اموات کی شرح میں کمی، ذہنی صحت کو بہتر بنانا، ایڈز، ملیریا اور دوسری بیماریوں سے لڑنا اور ماحولیاتی پائیداری یقینی بنانا ان اہداف میں شامل ہیں۔

دنیا کے ایک سو سینتالیس ملکوں نے ستمبر سنہ دو ہزار میں پائیدار معاشی ترقی اور غربت کے خاتمہ کے لیے اس ہزاریہ میں ترقی کے اہداف (ملینیم ڈیولیپمینٹ گولز) پر اتفاق کیا تھا جن میں پاکستان میں بھی شامل تھا۔

اس عزم پر دستخط کرنے کے چار سال بعد اس سال فروری میں پاکستان نے اپنی پہلی ملینیم ڈیولیپمینٹ گولز کی رپورٹ (جسے بیوروکریسی کی زبان میں ایم ڈی جیز کہتے ہیں) جاری کی تھی۔

میڈیم ٹرم فریم ورک، اونرشپ، اسٹیک ہولڈرز، پالیسی فریم ورک اور اس جیسی بہت سے بھاری بھرکم اصطلاحوں سے بھری اور خوبصورتی سے رنگین چھپائی میں موٹے موٹے کاغذوں پر چھپی ہوئی ملینیم ڈیولیپمینٹ گولز (ہزاریہ کی ترقی کے اہداف) کی سنہ دو ہزار چار کی یہ رپورٹ آج پنجاب میں بھی باقاعدہ طور پر جاری کردی گئی۔

پنجاب ملک کا پہلا صوبہ ہے جہاں آج لاہور کے سول سیکریٹیریٹ میں صوبائی بیوروکریسی، یو این ڈی پی، یونیسکو، صوبائی کابینہ کے ارکان، کچھ ضلعی ناظمین اور غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ ملینیم رپورٹ کے اہداف پر بات چیت کی گئی ہے۔

وزیراعظم شوکت عزیز نے رپورٹ کے ابتدایہ میں کہا ہے کہ یہ سات اہداف آپس میں جڑے ہوئے ہیں جن کا مقصد غربت کو اس کی ہر شکل میں کم کرنا ہے جبکہ آٹھواں ہدف معاشی ترقی کے لیے عالمی اشتراک ہے تاکہ پہلے سات اہداف حاصل کرنے کے لیے وسائل اکٹھے کیے جاسکیں۔

گو ملک میں عام تصور یہ ہے کہ بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے، مہنگائی بڑھ رہی ہے اور معاشی بدحالی کی وجہ سے خود کشی کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

لیکن وزیراعظم شوکت عزیز نے اس رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ غربت میں اضافہ کے رجحان کو روک لیا گیا ہے اور غربت میں کمی کی طرف سفر شروع ہوگیا ہے۔

پاکستانی خواتین
ان اہداف میں عورتوں کو مساوی درجہ دینا اور بااختیار بناناشامل ہے

وزیراعظم نے یہ بھی کہا ہے کہ پچھلے پانچ سال میں حکومت نے غربت کے خاتمے سے متعلق پروگراموں اور سماجی شعبہ کی ترقی پر آٹھ سو ساٹھ ارب روپئے خرچ کئے۔

لاہور کے سول سیکریٹریٹ میں اس رپورٹ پر جب متعلقہ فریقین (اسٹیک ہولڈرز) کی مشاورت ہوئی تو حکومت پنجاب کے ایک سیکرٹری نے آف دی ریکارڈ کہا کہ دیکھنا یہ ہے کہ اس میں سے کتنی رقم کاصحیح استعمال ہوا۔

حکومت جورقم خرچ کرتی ہے اس کے ضائع ہونے اور خُرد برد کی شکایات عام ہیں۔

پنجاب کی صوبائی بیوروکریسی کو خاص طور سے ضلعی حکومتوں کے ذریعے خرچ ہونے والی رقوم کے استعمال پر بہت سے شکوک شبہات ہیں جن کا آڈٹ صوبائی حکومتوں کے اختیار میں نہیں۔

یوں تو وزیراعظم شوکت عزیز بار بار کہتے رہے ہیں کہ ان کی وزارت خزانہ کے دور میں ملک نے قرضوں کا کشکول توڑ دیا ہے۔

لیکن اس سرکاری ملینیم رپورٹ میں انہوں نے کہا ہے کہ کم سے کم ترقی کے ان اہداف کو پورا کرنے کے لیے ان کی حکومت کے عزم کا انحصار اس بات پر ہے کہ ترقی یافتہ ملک اس مقصد کے لیے کتنے وسائل یا کتنا عطیہ (گرانٹ) دیتے ہیں اور اپنی منڈیوں تک ہمیں کتنی رسائی دیتے ہیں۔

پنجاب کے سیکرٹری خزانہ سلمان صدیق کا کہنا تھا کہ ملینیم رپورٹ (ایم ڈی جیز) میں دیئے گئے اہداف تو وہ کم سے کم مقاصد ہیں جو حکومت حاصل کرنا چاہتی ہے لیکن پنجاب حکومت تو ان سے آگے جانا چاہتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ترقیاتی ادارہ (یو این ڈی پی) کے نمائندہ ہو یانگ چُو نے بھی اس بات کا ذکر کیا کہ کچھ شعبے ایسے ہیں جن میں پنجاب دوسرے صوبوں سے آگے ہے جیسے ایڈز کے کنٹرول کا پروگرام یا عورتوں کی مساوات۔

اُن کا کہنا تھا کہ پنجاب میں لڑکوں اور لڑکیوں میں پرائمری تعلیم کے تناسب کی شرح کا انڈکس اعشاریہ نواسی فیصد ہے جبکہ پورے ملک میں یہ انڈکس اوسطا اعشاریہ ستاون فیصد ہے ۔

البتہ یو این ڈی پی کے نمائندے ہو یانگ چُو نے یہ بھی کہا کہ پنجاب سماجی ترقی کے اعشاریوں کے اعتبار سے تو ملک میں سب سے آگے ہے لیکن خواندگی کی شرح اور اوسط فی کس آمدن کے اعتبار سے سندھ سے پیچھے ہے۔

پنجاب کے وزیر خزانہ نصراللہ دریشک کا کہنا تھا کہ موجودہ صوبائی حکومت کے ایجوکیشن سیکٹر ریفارمز پروگرام کے تحت صوبہ میں پرائمری تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کی انرولمینٹ کی تعداد میں ساڑھے بارہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔

جبکہ جن اضلاع میں بچیوں کو وظیفے دیئے جاتے ہیں وہاں لڑکیوں کی انرولمینٹ میں تئیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔

پنجاب کے وزیر خزانہ کے پر امید اعداد و شمار اور سیکرٹری خزانہ کی ملینیم اہداف سے آگے جانے کی باتیں اپنی جگہ لیکن گفتگو میں شریک ایک ماہر محمد طارق نے بنیادی سوال یہ اٹھایا کہ اس ملک میں اعداد و شمار کس حد ٹھیک ہوسکتے ہیں ۔

جبکہ حالت یہ ہے کہ ملک میں اس وقت پیدا ہونے والے بچوں میں سے نصف کی پیدائش کی رجسٹریشن ہی نہیں کرائی جاتی جو تمام اعداد و شمار کی بنیاد ہے۔

لڑکیوں کا اسکول

منصوبہ بندی کمیشن کے ماہر معاشیات سجاد اختر نے اس بات سے اتفاق کیا۔

اجلاس میں موجود یونیسکو کے نمائندے حسن کیعنان نے کہا کہ محدود وسائل کو دیکھتے ہوئے ہوسکتا ہے کہ سماجی ترقی اور غربت کے خاتمہ کے لیے ملینیم اہداف کے ان سات شعبوں میں ایک جیسی سرمایہ کاری نہ کی جاسکے۔

یونیسکو کے نمائندہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں اس بات کا ثبوت موجود ہے کہ اگر خواندگی اور پرائمری تعلیم میں اچھی طرح سرمایہ کاری کرلی جائے تو اس سے دوسرے شعبوں کی ترقی میں مدد ملتی ہے۔

پنجاب کے وزیروں اور سیکرٹریوں کے معاشی اور سماجی ترقی کے بلند بانگ دعووں کے بیچ یونیسکو کے نمائندے کی یہ بات زیادہ حقیقت پسندانہ لگتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد