BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 31 March, 2005, 06:42 GMT 11:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیز تر ترقی، کہاں لے جائے گی

گوادر
’گندے پانی کا کوئی قطرہ بھی سمندر میں نہیں بہایا جائے گا‘
بلوچستان کے شہر گوادر میں یہ تصور ملتا ہے کہ یہاں ترقیاتی منصوبے تیزی سے تکیمل کو پہنچ رہے ہیں۔

پانچ سال پہلے حکومت نے پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد بلوچستان کے سات سو کلومیٹر لمبے ساحل کو ترقی دینے کی غرض سے ایک ادارہ بلوچستان کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی تشکیل دیا تھا جو گوادر کے ساحل کی ترقی کے لیے کام کر رہا ہے۔ شہر کو بسانے کے لیے گوادر ترقیاتی ادارہ بھی سرگرم عمل ہے جبکہ گہرے پانی کی بندرگاہ کی تعمیر کا کافی کام مکمل ہو چکا ہے۔

پاکستان میں تحفظ ماحول کے قانون کے مطابق تمام بڑے منصوبوں کے آغاز سے پہلے ضروری ہے کہ ان منصوبوں کے قدرتی ماحول پر پڑنے والے منفی اثرات کا جائزہ لیا جائے اور ان کے تدارک کے لیے مناسب منصوبہ بندی کی جائے۔

بی سی ڈی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محمد عارف بلوچ کا کہنا ہے کہ گوادر کے ترقیاتی منصوبوں میں اس کا خاطر خواہ خیال نہیں رکھا گیا ہے۔ تاہم وہ پرامید ہیں کہ مستقل اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ یہاں کے قدرتی ماحول اور حیاتی تنوع کو ملحوظ رکھا جائے۔

مستقبل کی منصوبہ بندی اپنی جگہ سہی لیکن جاری منصوبوں کا اثر بہرحال اس ساحلی شہر اور وہاں کی سمندری حیات کو متاثر کر رہا ہے۔ بقائے ماحول کی عالمی انجمن آئی یو سی این کے طاہر قریشی کہتے ہیں: ’جب یہ میگا سٹی بنے گا تو اس کی آبادی لاکھوں میں ہوجائے گی جس کا براہ راست اثر یہاں کے ماحول کو متاثر کرےگا۔ اس کے علاوہ جس جگہ بندگاہ بنائی گئی ہے وہ مچھلیوں اور مختلف طرح کی سمندری حیات کی افزائش گاہ تھی، وہ بھی متاثر ہوئی ہے۔‘

تاہم اس سلسلے میں گوادر پورٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل آپریشنز عبدالرازق درانی کہتے ہیں کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے تھوڑی بہت قربانی تو دینا پڑتی ہے: ’اگر مچھلی کی افزائش گاہ کا کچھ حصہ ضائع ہوگیا ہے تو اس کے بدلے یہاں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ویسے بھی اس کا اثر صرف ایک چوتھائی حصہ پر ہی پڑا ہے باقی علاقہ محفوظ ہے۔ رہی مچھیروں کے لیے معاوضے کی بات تو اگر متاثرین متعلقہ وزارت سے رابطہ کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ حکومت ان کے نقصان کا ازالہ نہ کرے۔‘

شہر میں ٹریفک جام ہونا علامت ہے اس بات کہ یہاں معاشی سرگرمی بڑھ رہی ہے، اور آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے ایسے میں ظاہر ہے کہ نکاسی آب کا مسئلہ پیدا ہوگا، صنعتیں لگیں گی تو صنعتی آلودگی شہریوں کے لیے سوہانِ روح بنے گی۔

گوادر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے اس کے سدِباب کے لیے جو اقدامات کیے ہیں ان کا ذکر کرتےہوئے جی ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل ایم اے بخش لہڑی کہتے ہیں کہ گندے پانی کا کوئی قطرہ بھی سمندر میں نہیں بہایا جائے گا اور صنعتوں کو اس بات کا پابند بنایا جائے گا کہ وہ اپنا گندہ پانی دوبارہ قابل استعمال بنائیں۔

یہ ساری منصوبہ بندی اپنی جگہ مگر کہتے ہیں کہ جس دیوار کی پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی ہو اسے بعد میں سیدھا کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ علاج سے پرہیز بہتر ہے کے مصداق یہاں شروع ہونے والے تمام منصوبوں کا ابتدائی ماحولیاتی جائزہ لے کر منفی اثرات کے تدارک کے لیے بروقت اقدامات کیے جائیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد