BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 February, 2005, 16:06 GMT 21:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوادر میں خصوصی اقتصادی زون

گوادر
اس زون میں سرمایہ کاروں کو ٹیکس کی چھوٹ سمیت مختلف سہولیات فراہم کی جائیں گی
پاکستان میں حکومت نے صوبہ بلوچستان کے شہر گوادر میں سرمایہ کاری کے لیے خصوصی اقتصادی زون قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس زون میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو ٹیکس کی چھوٹ سمیت مختلف سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

یہ بات وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے وزیراعظم شوکت عزیز کی صدارت میں ہونے والے کابینہ کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتائی۔

بلوچستان صوبے میں’بلوچ لبریشن آرمی‘ نامی تنظیم جہاں آئے دن شدت پسند کارروائیاں کر رہی ہے وہاں بلوچ قوم پرست رہنما گوادر بندرگاہ سمیت مختلف تعمیراتی کام روکنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں حکومت نے بلوچ رہنماؤں سے بات چیت کا عمل بھی شروع کیا ہے اور پارلیمانی کمیٹی بھی قائم ہے۔

حکومت کے اس فیصلے سے لگ رہا ہے کہ وہ کام بند کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ جس سے صوبے میں پائی جانے والی کشیدگی فوری طور پر ختم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔

وزیر کے مطابق کابینہ نے جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کی تنظیم ’سارک سمٹ، ملتوی کیے جانے پر سخت مایوسی ظاہر کی اور جلد نئی تاریخوں کے تعین پر زور دیا۔ اس تنظیم کی فی الوقت سربراہی پاکستان کے پاس ہے اور بھارت سمیت دیگر رکن ممالک کی مشاورت کے بعد اسے ہی نئی تاریخیں طے کرنی ہیں۔

کابینہ میں محرم الحرام کے مہینے میں شیعہ مسلک کے لوگوں کو اپنے عقائد کے مطابق جلسے جلوس کی مکمل آزادی دینے اور اس موقع پر امن امان کو یقینی بنانے کے متعلق خصوصی انتظامات پر غور کیا گیا۔ شیخ رشید نے بتایا کہ وزیراعظم نے اس ضمن میں وزیر داخلہ کو خصوصی ہدایات دی ہیں۔

اجلاس میں سمندری، فضائی اور شمسی لہروں سے بجلی پیدا کرنے کے لیے منصوبہ شروع کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔ ان کے مطابق ان طریقوں سے پچھہتر ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی گنجائش ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی قیادت سے حکومتی نمائندوں کے رابطے جاری ہیں۔

ان کے مطابق اگر دونوں کے درمیاں کوئی مفاہمت ہوئی تو اس صورت میں حکمران مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی آئندہ عام انتخابات میں مل کر حصہ لے سکتی ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو کسی اور ملک کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔ وزیر نے مغربی میڈیا پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے’مقاصد‘ کی خاطر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں شیخ رشید احمد نے بتایا کہ کابینہ نے کراچی میں قائم’ڈفینس ہاؤسنگ اتھارٹی‘ کی طرز پر راولپنڈی میں بھی ’آرمی ویلفیئر ٹرسٹ‘ کی زمین ’راولپنڈی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی‘ کو منتقل کرنے کی منظوری دی۔

اطلاعات کے مطابق یہ رہائشی سکیم چار ہزار ایکڑ رقبے پر مشتمل ہے جس میں دس ہزار فوجی افسران کو عام مارکیٹ کی قیمت سے خاصی کم قیمت پر رہائشی پلاٹ دیے جائیں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد