’بھارتی سرمایہ پر پابندی رہے گی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیرِاعظم شوکت عزیز نے کہا ہے کہ جب تک کشیر کے مسئلے کے حل میں پیش رفت نہیں ہوتی پاکستان میں بھارتی سرمایہ کاری پر پابندی رہے گئی۔ شوکت عزیز نے اپنے دورہ ملیشیاء میں سرمایہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے دوسرے ملکوں کو پاکستان میں سرمایہ لگانے اور تجارت بڑھانے کو دعوت دی۔ شوکت عزیز نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں ہی کشمیر پر اپنا دعوی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بہتر تعلقات کے راستے کی واحد ر کاوٹ ہے۔ مسٹر عزیز نے کہا کہ دونوں ممالک کی درمیان تعلقات پہلے سے بہتر ہونے کے باعث تجارت میں اضافہ ہوا ہے جس سے معاشی حالات بہتر ہونے کی امید ہے۔ نمائندوں کے مطابق پاکستان نے بھارتی سرمایہ کاری پر کوئی باقدہ پابندی لاگو نہیں کی ہے لیکن بھارتی سرمایہ کاروں کی طرف سے سرمایہ کی تجاویز کو مسترد کرتا رہا ہے۔ شوکت عزیز نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ لگانے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اوپن معاشی پالیسی اپنا رکھی ہے اور کوئی بھی دوسرے ملک کو پاکستان میں تجارت اور سرمایہ کاری کی اجازت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک بھارت سے تمام مذاکرات میں پیش قدمی نہیں ہوتی تب تک بھارت کی پاکستان میں سرمایہ کاری مشکل ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں بڑے یقین کے ساتھ کشمیر کے مسلہے کے خاتمے پر زور دیا ہے۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ پاکستان شاید اپنے جوہری ادارے سے استعمال شدہ سینٹریفیوجز کو اقوام متحدہ کے ادارے آئی اے ای اے کے حوالے کرئے جو ایران کے ایٹمی پرگرام کے بارے میں تحقیقات کر رہا ہے۔ پاکستان اب تک سینٹریفیوجز کسی اور ادارے کے حوالے کرنے سے انکار کرتا رہا ہے۔ گذشتہ سال پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے خالق عبد لقدیر خان نے قبول کیا تھا کہ ا نہوں نے ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو ایٹمی ٹیکنالوجی دی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||