BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 September, 2004, 19:40 GMT 00:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک بھارت مذاکرات پر مایوسی کا اظہار

بھارتی فوجی
کشمیری پاک بھارت تعلقات کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں برسر پیکار کئی عسکری تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل نے پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے مابین مذاکرات کو انتہائی ناکام اور مایوس کن قراردیا ہے۔

پیر کے روز ختم ہونے والے دونوں ممالک کے وزارئے خارجہ کے دو روزہ اجلاس میں ویزہ میں نرمی، سرینگر بس سروس، قونصل خانے کھولنے اور نیوکلئیر اور روایتی ھتیاروں پر اعتماد بڑھانے جیسے معاملات پر کچھ پیش رفت ہوئی ہے لیکن مسئلہ کشمیر کے بارے میں دونوں ممالک کے بارے میں اختلافات برقرار رہے۔

منگل کے روز پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں جاری کیےگئے ایک بیان میں متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے کہا کہ کشمیری عوام اور عسکریت پسندوں کو پہلے ہی اس بات کی توقع نہیں تھی کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچیں گے جسکے ذریعے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے راہ ہموار ہو سکے گی۔

ِانہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کی نصف صدی کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ بھارت نے ہمیشہ ’ہٹ دھرمی اور منافقت‘ سے کام لیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا مقصد ان مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر حل کرنا نہیں بلکہ بگلیار ڈیم، وولر بیراج اور سیاچن جیسے معاملات کو اٹھاکر اپنے مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرنا اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں، بقول انکے‘ اپنی ظالمانہ کارروائیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت حاصل کرنا ہے۔

متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ نے کہا کہ بھارت نے حالیہ مذاکرات عالمی دباؤ کے نتیجے میں شروع کیے ہیں اور اس طرح بھارت عالمی رائے عامہ کو یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ کشمیر سمیت تمام معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے کشمیر کے اندر وسیع پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کے عمل کا ڈھونگ رچایا ہے۔

سید صلاح الدین کا موقف ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران ہونے والے مذاکرات میں کہیں بھی مسئلہ کشمیر کا ذکر نہیں آیا اور یہ کہ بھارت کا سارا زور دوطرفہ تعلقات بحال کرنے پر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان حالیہ ملاقات سے ایسے اشارے ملے ہیں کہ بھارت مسئلہ کشمیر پر بات چیت کرنے پر آمادہ نہیں۔

سید صلاح الدین نے حکومت پاکستان سے کہا کہ وہ بھارت کے ساتھ آئندہ مذاکرات مسئلہ کشمیر پر پیش رفت سے مشروط کرے اور یہ کہ اگر بھارت اس پر آمادہ نہیں ہوتا تو پھر بھارت کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ ختم کردیا جائے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد