BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 30 May, 2005, 16:10 GMT 21:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیونسٹ رہمنا جام ساقی گرفتار

جام ساقی
جام ساقی نے اپنی سیاسی زندگی کا بڑا حصہ جیلوں میں گزارا ہے
پولیس نے پاکستان کے کمیونسٹ رہنما اور پاکستان انسانی حقوق کمیشن کے عہدیدار کامریڈ جام ساقی کو ان کی رہائشگاہ قاسم آباد حیدرآباد سےگرفتار کر کے نامعلوم مقام پر پہنچا دیا گیا ہے۔

کمیشن کے سیکرٹری جنرل اقبال حیدر نے کراچی میں صحافیوں کو بتایا کہ حکومت نے جام ساقی کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بارے میں تحقیقات کو روکنے کے لئے گرفتار کیا ہے۔

جام ساقی نے اپنی سیاسی زندگی کا بڑا حصہ جیلوں میں گزارا ہے۔ اس وقت وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ممبر ہیں لیکن اس سے زیادہ وہ پاکستان ہیومن رائٹس کمیشن میں سرگرم ہیں اور کمیشن کی مرکزی کمیٹی کے ممبر ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ کمیشن کو شکایت ملی تھی کہ اقلیت سے تعلق رکھنے والے بعض افراد کو اغوا کیا گیا ہے اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے۔

ان واقعات کی تحقیقات کے لئے کامریڈ جام ساقی کی قیادت میں کمیشن کے وفد نے وزیراعلیٰ سندھ کے آبائی گاؤں کھیتلاری میں جا کر تحقیقات کیں اور حقائق معلوم کئے۔

کمیشن کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اقلیتی خاتوں مسمات دھنو اور اس کی بہو کو اغوا کیا گیا۔ اور بہو کے ساتھ زیادتی بھی کی گئی۔

اقبال حیدر نے الزام عائد کیا کہ اس معاملے میں وزیر اعلیٰ سندھ کے بعض قریبی لوگ ملوث تھے۔

انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی رپورٹ سے گھبرا کر کامریڈ جام ساقی کو ایک جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے، جبکہ دنیا جانتی ہے کہ وہ ایک منجھے ہوئے اور جانے پہچانے سیاستدان اور کمیونسٹ لیڈر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کامریڈ ساقی بلڈ پریشر اور شوگر کے مریض ہیں۔ ان کو نامعلوم مقام پر رکھ کر پریشان کیا جا رہا ہے اور ان کی زندگی کو خطرہ ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کامریڈ ساقی کو کچھ ہوا تو وزیر اعلیٰ سندھ کے خلاف براہ راست مقدمہ درج کیا جائےگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جام ساقی کو فوری طور پر رہا کیا جائےاور ان کےخلاف قائم جھوٹا مقدمہ واپس لیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نےان کی گرفتاری دھماکہ خیز مادہ رکھنے کے ایک مقدمہ میں دکھائی ہے۔ ’یہ ایسا گھٹیا الزام ہے جو ضیاالحق جیسا آمر بھی ان کے خلاف نہیں لگا سکا۔‘

جام ساقی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اتوار کی شام پولیس انہیں یہ کہ کر لےگئی کہ محلہ میں کسی تنازع کے حل کے لئے ان کی مدد کی ضرورت ہے۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ انہیں گرفتار کرکے کسی نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے۔ رات بھر حیدرآباد کے صحافی یہ معلوم کرنے کے لئے پولیس حکام سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ لیکن کوئی بھی ذمہ دار اہلکار نہ مل سکا۔

پیر کے روز سارا دن جام ساقی کے اہل خانہ اور دوست پولیس حکام سے رابطہ کرتے رہے لیکن کوئی بھی افسر تفصیل بتانے کے لئے تیار نہ تھا۔

پیر کی شام کو پولیس نے بتایا کہ انہیں مارکیٹ پولیس اسٹیشن میں درج ایک مقدمے میں گرفتار کیا گیا ہے اور انسداد دہشتگردی کی عدالت سےسات دن کا ریمانڈ لیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد