BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 May, 2005, 22:56 GMT 03:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ناظم پسنی پرمقدمہ، وزیرثقافت مستعفی

بلوچستان
بلوچستان میں انسداد منشیات کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ناظم کو تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا ہے
پسنی میں مظاہرے اور احتجاج کے دوران تحصیل ناظم معیار نوری کے خلاف مقامی پولیس تھانے میں باقاعدہ مقدمہ درج کر دیا گیا ہے جبکہ صوبائی وزیر ثقافت شیر جان بلوچ نے کہا ہے کہ انھوں وزارت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

پسنی پولیس تھانے کہ اہلکار نے بتایا ہے کہ تحصیل ناظم ان کی حراست میں ہیں اور ان کے خلاف اسلحہ رکھنے کے جرم میں مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔ یہ رپورٹ انسداد منشیات کے ادارے کی جانب سے کی گئی ہے۔

صوبائی وزیر ثقافت شیر جان بلوچ نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ کارروائی لینڈ مافیا اور منشیات کے سمگلروں کی جانب سے کرائی گئی ہے کیونکہ تحصیل ناظم نے ان لوگوں کے خلاف سخت کارروائی شروع کر رکھی تھی۔

شیر جان بلوچ تحصیل ناظم معیار نوری کے رشتہ دار ہیں۔ شیر جان بلوچ نے کہا ہے کہ ان کے علاقے میں لوگ زمینوں پر قبضے کر رہے ہیں اور حالات انتہائی ابتر ہیں۔ اس بارے میں انھوں نے صدر پرویز مشرف گورنر بلوچستان اور وزیر اعلی بلوچستان کو خطوط بھیجے تھے لیکن مافیا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

انھوں نے کہا ہے کہ جو اسلحہ برآمد ہوا ہے وہ لائسنس یافتہ ہے اور باقی اسلحہ لیویز اہلکاروں کا ہے جو ناظم کے ساتھ ڈیوٹی دیتے ہیں۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس سے پہلے ان کے گھر پر نا معلوم افراد نے حملہ کیا تھا اور اب یہ کارروائی کی گئی ہے جس میں نہ علاقے کے ایس ایچ او نہ تحصیلدار اور نہ کسی اور افسر کو مطلع کیا گیا۔

شیر جان بلوچ نے کہا ہے کہ انھوں نے وزیر اعلی کو اپنے استعفیٰ کے بارے میں اطلاع دے دی ہے اور اب چونکہ وہ ایک دور افتادہ علاقے میں ہیں گورنر کو بیس مئی تک تحریری طور پر اپنا استعفیٰ دے دیں گے۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ وزیر نام کے ہیں ان کی تو ایک تھانیدار نہیں سنتا ہے باقی لوگوں کے لیے وہ کیا کام کر سکیں گے۔

پسنی میں آج سارا دن احتجاج اور مظاہرے ہوئے ہیں پولیس تھانے کو لوگوں نے کافی دیر تک گھیرے میں لیے رکھا اور حکومت کے خلاف سخت نعرہ بازی کی ہے۔

یاد رہے کہ کل علی الصبح کوئی چار بجے انسداد منشیات کے ادارے کے اہلکاروں نے ناظم معیار نوری ان کے بھائی اور دو لیویز اہلکاروں سمیت چھ افراد کو ان کے گھر سے اٹھا لیا تھا جس کے بعد یہ افواہ گردش کرنے لگی کہ ناظم کو اغوا کرلیا گیا لیکن دوپہر کے بعد معلوم ہوا کہ ناظم کو اے این ایف کے اہلکاروں نے گرفتار کیا ہے۔

انسداد منشیات کے ادارے کے مطابق پسنی سے ایک گاڑی میں منشیات اور اسلحہ برامد ہوا تھا اور جس مکان کے قریب گاڑی کھڑی تھی اس سے بھی بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا ہے جس کے لیے ناظم سے تفتیش کی گئی ہے۔

ناظم کے والد سید عیسی نوری نے کہا ہے کہ یہ کارروائی ذاتی نا پسندیدگی کی بنیاد پر کی گئی ہے ان کے خلاف اس طرح کے کوئی ثبوت نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا خاندان اس طرح کے کسی کارروائی میں ملوث رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد