بلوچ سٹوڈنٹس کے رہنما گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور کئی دوسرے سٹوڈنٹ رہنماؤں کو ڈیرہ غازی خان میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے دو ماہ سے لاپتہ مرکزی صدر اور دوسرے رہنماؤں کو ڈرامائی طور پر پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں پولیس نے مشتبے حالت میں پھرنے اور چوری کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ بی ایس او کے رہنماؤں کو ڈیرہ کے علاقے سخی سرور میں پولیس نےبدھ کے روز گرفتار کیا تھا۔ سخی سرور تھانہ کے ڈیوٹی پر موجود اہلکار محمد اکرم نے بتایا کے پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ چند مشکوک افراد ڈیرہ غازی خان ائیر پورٹ کی عمارت کے پاس موجود ہیں۔ پولیس نے بر وقت کاروائی کرتے ہوۓ چار مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا اور بعد میں علاقہ مجسٹریٹ سے ان کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کر لیا۔گرفتار افراد کے نام امداد، یوسف، غلام رسول اور نسیم معلوم ہوۓ تھے۔ اس بات کا انکشاف کہ چوری کے الزام میں دھرے جانے والوں میں بی ایس او کے مرکزی صدر ڈاکٹر امداد بلوچ اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر یوسف بلوچ بھی شامل ہیں اس وقت ہوا جب جمعہ کے روز کچھ مقامی صحافی ائیرپورٹ سے پکڑے جانے والے مشکوک افراد کو ملنے تھانہ سخی سرور گۓ۔ دوسرے گرفتار افراد میں غلام رسول بلوچ بی ایس او کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن جبکہ ڈاکٹر نسیم بلوچ کا شمار بھی تنظیم کے مرکزی رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ بی ایس او کے یہ چاروں رہنما اس سال چوبیس مارچ کو کراچی سےلاپتہ ہوگۓ تھے اور شبہ کیا جا رہا تھا کہ حکومتی خفیہ اداروں نے انہیں بلوچستان میں رونما ہونے والے حالیہ سیاسی اور امن و امان کے مسائل کے پس منظر میں حراست میں لے رکھا ہے۔ بی ایس او کے گرفتار رہنماؤں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ڈیرہ میں درج کیۓ گۓ مقدمے میں ضمانت پر رہا ہونے پر ہی کراچی سے اپنے اغوا اور پھر دو ماہ بعد ڈیرہ غازی خان میں پہنچاۓ جانے کی تفصیلات بیان کریں گے۔ ان رہنماؤں کی بازیابی کے لیۓ ترقی پسند طلبا تنظیموں کی طرف سے ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کیۓ گۓ جبکہ بی ایس او کے ایک کارکن کوئٹہ میں کئی روز سے تادم مرگ ہڑتال بھی کیۓ ہوۓ ہیں۔ بی ایس او بلوچستان میں طلباء کی سب سے مقبول تنظیم سمجھی جاتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||