BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 April, 2005, 14:39 GMT 19:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چلتن ایکسپریس میں دھماکہ

ٹرین میں دھماکہ (فائل فوٹو)
بلوچستان میں حکومت کے سخت حفاظتی انتظامات کے دعووں کے باوجود مسلسل حملے جاری ہیں
صوبہ بلوچستان میں سبی کے قریب لاہور جانے والی ریل گاڑی چلتن ایکسپریس میں دھماکہ ہوا ہے جس میں دو فوجیوں سمیت دس افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ دھماکہ کوئی ساڑھے چار بجے سِبّی سے کوئی پچاس کلومیٹر دور پیشی کے مقام پر ہوا ہے۔

ڈائریکٹر لیویز میجر انجم نے سبی سے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دھماکہ بوگی نمبر چھ کی کے بیت الخلاء میں ہوا۔ زخمیوں میں زیادہ تر کو معمولی چوٹیں آئی ہیں جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ دو فوجیوں کو گہرے زخم آئے ہیں۔ ان فوجیوں کے نام حوالدار وحید اور حوالدار محفوظ بتائے گئے ہیں۔

میجر انجم نے کہا ہے کہ کوئٹہ سے سبی تک ریلوے لائن پر حفاظتی انتظامات بہتر کیے جا رہے ہیں۔ اس کے لیے صوبائی حکومت سے کہا گیا ہے کہ لیویز کی تعداد میں اضا فہ کیا جائے۔

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ کوئٹہ آنے والی اور لاہور جانے والی چلتن ایکسپریس کی دونوں گاڑیوں میں ایک ہی وقت میں علیحدہ علیحدہ دھماکے ہوئے تھے جن میں دو افراد ہلاک اور نو افراد زخمی ہوئے تھے ان میں فوجی اہلکار بھی شامل تھے۔

تین روز پہلے پنجگور میں نا معلوم افراد نے ہوائی اڈے کے راڈار کو نشانہ بنایا تھا جس کی ذمہ داری بلوچ لبریشن فرنٹ کے نمائندے دودا نے ٹیلیفون پر قبول کی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد