بھاری اسلحہ برآمد کرنے کا دعوی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں پولیس نےتین افراد کو گرفتار کر کے ان کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا ہے۔ پولیس حکام نے دعوی کیا ہے کہ یہ اسلحہ یہاں دھماکوں میں استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد سے مماثلت رکھتا ہے۔ سی آئی اے پولیس کے افسر وزیر خان ناصر نے بتایا ہے کہ انھوں نے خفیہ اطلاع پر شہر کے قریب کلی جیو میں چھاپہ مار کر تین افراد کو اسلحے سمیت گرفتار کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اسلحے میں ایک سو دستی بم، دو سو سے زیادہ دھماکہ خیز راڈز، راکٹ کے ستانوے فیوز، تین کلاشنکوف، دو پستول۔ چار ہزار سے زیادہ کلاشنکوف کے کارتوس، پانچ سو کے لگ بھگ پستول کی گولیاں، ریموٹ کنٹرول سرکٹ، اور دیگر سامان جو تخریبی کارروائیوں میں استعمال ہو سکتا ہے برآمد کیا گیا ہے۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس وزیر خان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ مواد کوئٹہ میں تحریبی کارروائیوں میں استعمال ہو سکتا تھا جس سے شہر میں بڑا نقصان ہوتا۔ انھوں نے کہا ہے کہ یہ اسلحہ یہاں کوئٹہ میں مختلف دھماکوں میں استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد سے ملتا جلتا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اس بارے میں مذید تحقیقات ہو رہی ہیں او توقع ہے کہ اس میں مذید افراد گرفتار ہوں گے۔ پولیس حکام نے بتایا ہے کہ گرفتار ہونے والے افراد میں عبدالکریم بگٹی وریام بگٹی اور امیر بخش سیلاچی شامل ہیں۔ امیر بخش محکمہ ایکسائز میں ملازم ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ پولیس نے مری کیمپ یا نیو کاہان سے بڑی مقدار میں اسلحہ برآمد کرنے کا دعوی کیا تھا جہاں کئی روز تک پولیس کارروائی جاری رہی۔ اس کارروائی کے بارے میں مری کیمپ کے مکینوں اور سیاسی جماعتوں کے قائدین نے احتجاج کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ اسلحہ پولیس نے خود رکھا تھا۔ اس کارروائی کے بعد کوئٹہ کے پولیس افسر کا تبادلہ کر دیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||