کوئٹہ میں دو خود کش ہلاکتیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کوئٹہ میں پولیس سے فائرنگ کے تبادلے کے بعد دو مشتبہ افراد نے اپنے آپ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا ہے۔ یہ واقعہ علمدار روڈ کے قریب پیش آیا ہے جہاں سے جمعہ کو محرم کا جلوس گزرنا تھا۔ کوئٹہ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس پرویز رفیع بھٹی نے کہا ہے خفیہ اطلاع پر اس مکان پر پولیس نے چھاپہ مارا تو اندر سے نامعلوم افراد نے فائرنگ شروع کر دی۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران مکان کے اندر موجود دونوں ملزمان نے اپنے آپ کو جسم سے بندھے بموں سے اڑا دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے یہ خود کش حملہ آور تھے اور جمعہ کو محرم کے جلوس کے ایک دستے پر حملہ کر سکتے تھے یا اس دستے میں شامل ہو کر بڑے جلوس میں کوئی کارروائی کر سکتے تھے۔ پولیس کے مطابق جس مکان پر چھاپہ مارا گیا ہے وہاں سے بڑی مقدار میں دستی بم اور دیگر اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ اس کے علاوہ دیواروں پر ایک فرقے کے خلاف جملے درج تھے اور گولیوں پر کالعدم تنظیم کا نام لکھا ہوا تھا۔ اس مرتبہ پولیس نے محرم کے لیے سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔ جلوس کے راستے سیل کر دیئے گئے ہیں، آنے جانے والوں کی تلاشی لی جا رہی ہے۔ اہل تشیع نے اپنے لوگوں کو کارڈ جاری کیے ہیں اور ان کے سکاؤٹس پولیس کے ساتھ تعینات ہیں۔ اس کے علاوہ شہر میں نیم فوجی دستے گشت کر رہے ہیں جبکہ فوج کو چوکس رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ تین روز قبل علمدار روڈ پر پنجابی امام بارگاہ کے قریب ایک مشکوک شخص کو گرفتار کیا گیا تھا جس کے بارے میں پولیس نے بتایا ہے کہ یہ کالعدم تنظیم کا رکن ہے۔ اسی طرح کل ساتویں کے جلوس کے دوران دو مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے جن سے پوچھ گچھ جاری ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ سال عاشورہ کے جلوس پر نامعلوم افراد نے حملہ کر دیا تھا جس سے لگ بھگ پچاس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اسی طرح دو ہزار تین میں نامعلوم افراد نے امام بارگاہ میں نمازیوں پر حملہ کر دیا تھا جس میں پچاس سے زیادہ افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||