BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 April, 2005, 09:39 GMT 14:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شجاعت و بگتی کے مذاکرات

بگتی اور شجاعت کے درمیان مذاکرات کا یہ تیسرا دور ہے
بگتی اور شجاعت کے درمیان مذاکرات کا یہ تیسرا دور ہے
ڈیرہ بگتی اور سوئی کے حوالے سے چوہدری شجاعت حسین اور بلوچ سردار نواب اکبر بگتی کے مابین ڈیرہ بگتی میں مذاکرات ہو رہے ہیں۔

چوہدری شجاعت حسین اور سینیٹر مشاہد حسین اب سے تھوڑی دیر پہلے ڈیرہ بگتی پہنچے ہیں ۔ ان مذاکرات میں نواب اکبر بگتی کے بھانجے اور شیر باز مزاری کے بیٹے شیر علی مزاری بھی موجود ہیں۔

وفاقی حکومت اور نواب اکبر بگتی کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دور جاری ہے جس میں توقع ہے کہ تین رکنی کمیٹی کو حتمی شکل دی جائے گی جس کے قیام کا فیصلہ گزشتہ ملاقات میں کیا گیا تھا۔ یہ کمیٹی ڈیرہ بگتی اور سوئی کے حوالے سے کیے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گی۔

چوہدری شجاعت حسین اور سینیٹر مشاہد حسین بھارت کے دورے کے بعد پیر کی صبح سوئی پہنچے جہاں انہوں نے کچھ وقت گزارا اور بعد میں ڈیرہ بگتی روانہ ہو گئے۔

سترہ مارچ کو بگتی قبائل اور فرنٹیئر رکور کے اہلکاروں کے مابین جھڑپ کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ سترہ مارچ کے واقعے میں نواب اکبر بگتی کے مطابق ساٹھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں ایک بڑی تعداد ہندوؤں کی تھی لیکن سرکاری سطح پر ان ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ڈیرہ بگتی میں حالات کشیدہ ہیں جہاں بگتی قبائل اور ایف سے کے جوان مورچوں میں موجود ہیں۔ ایف سی کے حکام کا کہنا ہے کہ بگتی قبائل نے سوئی ڈیرہ بگتی روڈ پر مورچے قائم کر رکھے ہیں جہاں سے ایف سی کے اہلکاروں کو جا نے نہیں دیا جا رہا جبکہ ڈیرہ بگتی سے جمہوری وطن پارٹی کے جنرل سیکرٹری آغا شاہد بگتی کا کہنا ہے کہ ایف سیی نے روڈ بند کر رکھے ہیں اور مقامی لوگوں کو شہر نہیں آنے دیا جا رہا۔ شہر میں خوراک کی قلت ہے اور لوگ انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

نواب اکبر بگتی نے ان مذاکرات کے حوالے سے بارہا کہا ہے کہ یہ مذاکرات خالصتًا ڈیرہ بگتی اور سوئی کے حوالے سے ہو رہے ہیں ان مذاکرات میں پورے بلوچستان کے مسائل شامل نہیں ہیں۔ بلوچستان کے حوالے سے علیحدہ پارلیمانی کمیٹی قائم ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد