آٹھ بلوچ کہاں ہیں: ہائی کورٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے سے بلوچ الائنس کے آٹھ لاپتہ کارکنوں کے بارے میں جواب طلب کیا ہے۔ آٹھ بلوچ نوجوان کو سات ہفتے پہلے بلوچستان میں حکومتی کارروائی کے دوران کراچی سےگرفتار کیا گیا تھا ۔ ان کے لواحقین نے ان کی زندگی کے بارے میں خدشے کا اظہار کیا ہے- سندھ ہائی کورٹ نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے جواب طلبی کی ہے کہ وہ بتائیں کہ بلوچ الائنس کے گرفتار آٹھ کارکن کس ایجنسی کی تحویل میں ہیں- جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس محمد صادق لغاری پر مشتمل دو رکنی ڈویزن بنچ نے بلوچ الائنس کے رہنما امداد بلوچ سمیت آٹھ کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف میر نور جان بلوچ کی آئینی درخواست کی سماعت کی ۔ ان لاپتہ نوجوانوں میں ایک بولان میڈیکل کالج کا ایک طالب علم بھی ہے۔ درخواست گذار کے وکیل عبدالحفیظ لاکھو نے جمعہ کے روز عدالت کو بتایا کہ یہ کارکن سات ہفتوں سے لاپتہ ہیں- سرکار کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے- انہوں نے بتایا کے ایمنسٹی انٹرنیشنل سے بھی ایک خط موصول ہوا ہے جس میں ان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے- عدالت عالیہ نے صوبائی اور وفاقی حکومتوں سےجواب طلبی کی ہے اور سماعت 27 مئی تک ملتوی کردی- درخواست گذار نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ 26 مارچ کو کراچی میں امداد بلوچ اور دیگر کارکن بلوچستان فوجی آپریشن اور خاص طور پر ڈیرہ بگٹی میں حکومتی کارروائی کے خلاف احتجاجی اجلاس کررہے تھے کہ انہیں گرفتار کرلیا گیاتھا- جس کے بعد وہ لاپتہ ہیں اور ان کے لواحقین اور دوستوں کو پتہ نہیں ہے کہ وہاں کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں- گرفتار شدگان میں ڈااکٹر امداد بلوچ، ڈاکٹر یوسف بلوچ، ڈاکٹرغلام رسول، ڈاکٹر اللہ نظر، علی اختر، نسیم بلوچ، نواز علی، اور اختر ندیم شامل ہیں۔ ڈاکٹر امداد کے والد نورجان بلوچ لطیف بلوچ اور دیگر لوحقین نے سنیچر کے روز ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ جب بلوچستان میں دیرہ بگٹی اور سبی کے علاقے میں حکومت کارروائی کر رہی تھی تب ان آٹھ نوجوانوں کو کہ 24 اور 25 مارچ کی درمیانی شب کو گلستان جوہر کے علاقے سے پولیس اور قانون نافذ کرنے وال ادارے کے اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا جس کے بعد یہ لوگ لا پتہ ہیں- انہوں نے کہا کہ باون روز گزرنے کے بعد بھی ان کا کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے-انہوں نے کہا کہ اگر ان کو شہید کیا گیا ہے تو ان کی لاشیں ہمارے حوالے کی جائیں اور اگر زندہ ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے- بلوچستان کے منتخب نمائندے بھی گرفتار شدگان کی رہائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||