BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 17 May, 2005, 05:01 GMT 10:01 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئٹہ: احتجاج سینکڑوں گرفتاریاں

بلوچستان
پیر کو بلوچستان اسمبلی کا دو ماہ بعد پہلا اجلاس تھا
کوئٹہ میں پیر کا دن احتجاج اور مظاہروں کا دن تھا اور اس کی وجہ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس تھا جو کوئی دو ماہ کے وقفے کے بعد آج شروع ہوا ہے۔

پولیس نے آج لگ بھگ تین سو زمینداروں اور طلباء کو حراست میں لیا ہے جبکہ شہر میں کئی روڈ بلاک تھے تو کئی مقامات پر ٹریفک جام رہا۔

بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں اگرچہ کوئی زیادہ شور شرابا نہیں تھا اور دوپہر کے وقت کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے سپیکر نے اجلاس ملتوی کرنا پڑا لیکن ایوان کے باہر سڑکوں پر بڑی تعداد میں پولیس تعینات تھی جو مظاہرین کو منتشر کرنے اور کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے تیار تھی۔

مظاہرین کی یہ کوشش تھی کہ کسی طرح بلوچستان اسمبلی کے عمارت کے سامنے پہنچ کر نعر بازی کی جائے۔ زمینداروں کی اس کوشش کو پولیس نا ناکام بنا دیا اور کوئی تین سو افراد کو حراست میں لیکر تھانے پہنچا دیا بعد میں انھیں رہا کرنا چاہا توزمینداروں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ انھیں گرفتار کیوں کیا گیا تھا۔

زمیندار بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور کمی بیشی پر مظاہرے کر رہے تھے۔ زمیندار ایکش کمیٹی کے چئرمین تاج آغا نے کہا ہے کہ بوائی کا وقت گزر گیا ہے کسانوں نے زمین میں جو بیج ڈالا تھا خشک ہو گیا ہے کیونکہ ٹیوب ویل کام نہیں کر رہے۔ اگر بجلی آجائے تو اس میں اتنی کمی بیشی ہوتی رہتی ہے کہ مشینیں خراب ہو جاتی ہیں۔

زمینداروں نے کہا ہے کہ ملک میں نو قومی گرڈ سٹیشن ہیں ایک بھی بلوچستان میں نہیں ہے۔ یہاں صرف ٹرانسمیشن لائن پر بجلی فراہم کی جا رہی ہے۔

بجلی کے محکمے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ زمیندار سارے مہینے کا بل صرف چار ہزار روپے دیتے ہیں جبکہ وہ کوئی چالیس ہزار روپے کی بجلی استعمال کرتے ہیں۔ حکومت اور محکمے کی طرف سے انھیں رعایت دی جا رہی ہے۔ صوبے میں اس وقت کوئی سترہ ہزار ٹیوب ویل ہیں جن میں سے کوئی ایک ہزار غیر قانونی ہیں۔ ان زمینداروں کےذمے کوئی اسی کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔

کوئٹہ میں اس کے علاوہ طلبا نے بھی احتجاج کیے ہیں۔ بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے طلباء تنظیم کے قائدین کی مبینہ گرفتاری کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

بی ایس او کے آٹھ رہنماؤں کو مارچ میں مبینہ طور پر کراچی سے گرفتار کیا گیا تھا اور اب تک ان کا کوئی پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں۔ ان رہنماؤں کے لیے متحدہ قومی موومنٹ اور مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے رہنماؤں نے اپنی اپنی تنظیموں سے استعفے دیکر تا دم مرگ بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔

کوئٹہ پریش کلب کے سامنے بے روزگار انجینیئرز کا تا دم مر گ بھک ہڑتال جاری ہے۔ بلوچستان میں کوئی تیرہ سو تعلیم یافتہ انجینیئرز اور چودہ سو زرعی گریجویٹس بے روزگار ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد