بلوچستان میں دھماکے: دو زخمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے مختلف شہروں میں دھماکوں سے فرنٹیئر کور کے دو اہلکار زخمی ہوگئے ہیں جبکہ بجلی کے کھمبوں اور حساس ادارے کے دفتر کو نقصان پہنچا ہے۔ آج صبح کوئٹہ سے کوئی ڈیڑھ سو کلومیٹر دور سبی کے قریب بختیار آباد کے علاقے میں دھماکے سے ایف سی کے دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ایف سی کے اہلکار وہاں کیا کر رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق ایف سی کے اہلکار اس علاقے میں رفع حاجت کے لیے گئے تھے جہاں انھیں بم ملا جس کے پھٹنے سے دونوں اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ کل رات دالبندین کے علاقے میں نا معلوم افراد نے ایک حساس ادارے کے دفتر میں دستی بم پھینکے ہیں۔ اس دھماکے میں کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ ایک نامعلوم شخص نے ٹیلیفون پر اپنا نام آزاد بلوچ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس دھماکے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی قبول کرتی ہے۔ اس کے علاوہ کوئٹہ سے کوئی پچاس کلومیٹر دور جنوب میں پیر غائب کے علاقے میں بجلی کے کھمبوں کے نیچے دھماکے ہوئے ہیں۔ ان دھماکوں سے دو کھمبوں کو نقصان پہنچا ہے لیکن بجلی کی ترسیل متاثر نہیں ہوئی ہے۔ بجلی کے محکمے کے ترجمان جبرئیل خان نے بتایا ہے کہ ان دھماکوں سے کھمبوں کو نقصان پہنچا ہے لیکن کھمبےگرے نہیں ہیں اب ان کی مرمت کی جائے گی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||