BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 April, 2005, 08:15 GMT 13:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان اور ’گریٹ گیم‘

بلوچستان
بلوچستان میں اب بھی عالمی خفیہ ادارے سرگرم ہیں: حمید گل
لاہور میں بلوچستان پر منعقد ہونے والے ایک سیمینار میں بلوچ رہنماؤں نے بلوچستان کی محرومی اور خودمختاری کی بات کی تو فوج کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ حمید گُل نے بلوچستان کی موجودہ صورتحال کو خطے میں امریکہ کے عالمی مفادات کی جنگ سے جوڑا۔

حمید گل نے کیسپیئن کے تیل میں امریکہ کی دلچسپی اور ایران پر ممکنہ امریکی حملہ کو بلوچستان کی موجودہ صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا کیونکہ ان کے خیال میں ان دونوں جگہوں پر جانے کے لیے بلوچستان واحد راستہ ہے۔

تاہم لیفٹیننٹ جنرل حمیدگُل نے اپنی بات یوں شروع کی کہ بلوچستان کا کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ تو اسلام آباد اور راولپنڈی کی سوچ کا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے لوگوں کو اعتماد کیسے ہو کیونکہ یہاں پر ہر کسی کے ساتھ ہوجاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب اسلام آباد اور راولپنڈی کی سوچ بدلے گی تو بلوچستان کا مسئلہ حل ہوجائے گا۔

حمید گُل کا کہنا تھا کہ صوبائی خود مختاری کا معاملہ بہت عرصے سے لٹکا ہوا ہے اور اسے اب حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلہ کو پارلیمینٹ میں حل ہونا چاہیے لیکن پارلیمینٹ غیر مؤثر ہے اور ربڑ اسٹیمپ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمینٹ کبھی کسی سیاستدان کے انگوٹھے کے نیچے ہوتی ہے اور اکثر اوقات کسی فوجی حکمران کے انگوٹھے تلے ہوتی ہے۔

بلوچستان کی صورت حال
بلوچستان کے ساحل کے پاس ایک سو پچاسی کلومیٹر کے فاصلہ پر آبنائے ہرمز ہے جہاں سے دنیا کا ستر فیصد تیل گزرتا ہے جس پر جاپان، یورپ اور چین کی معیشتوں کا انحصار ہِے۔
حمید گل

حمید گُل نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں بلوچوں کی آبادی ڈیڑھ کروڑ ہے جس میں سے ایک کروڑ پنجاب میں آباد ہے، تیس لاکھ سندھ میں اور سب سے کم بلوچستان میں موجود ہے۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے کہا کہ ’میگا پراجیکٹس‘ بننے کے بعد کراچی اور پنجاب کے لالچی لوگ گوادر کی زمینوں پر ٹوٹ پڑے ہیں اور جیسے یہودیوں نے فلسطین کی زمین خریدی تھی انہوں نے گوادر کی زمین خریدنی شروع کر دی۔

اس تمہید کے بعد حمید گُل نے سازش کے نظریوں کی تفصیل بیان کرنا شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے ساحل کے پاس ایک سو پچاسی کلومیٹر کے فاصلہ پر آبنائے ہرمز ہے جہاں سے دنیا کا ستر فیصد تیل گزرتا ہے جس پر جاپان، یورپ اور چین کی معیشتوں کا انحصار ہِے۔

حمید گُل نے دعویٰ کیا کہ دنیا کی نظریں آبنائے ہرمز پر ہیں کہ اس پر اُس کا کنٹرول ہو۔ ان کے خیال میں پہلے سویت یونین کی نظریں اس پر تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اب پاکستان کے مشرق میں سمندر اور مغرب میں افغانستان میں پاکستان کا ہمسایہ امریکہ ہے کیونکہ حامد کرزئی کی حکومت دراصل امریکہ کی حکومت ہے۔

حمید گُل نے دعویٰ کیا کہ اگلے چالیس سال میں ایران اور مشرق وسطیٰ کے تیل کے ذخائر ختم ہوجائیں گے کیونکہ دنیا میں ہر سال تیل کی مانگ دو فیصد سالانہ کے اعتبار سے بڑھ رہی ہے۔

News image
صوبائی خودمختاری کا مسئلہ حل ہونا چاہیے: حمیدگل

انہوں نے کہا کہ ان ذخائر کے ختم ہونے کے بعد اگلے ڈیڑھ سو سال کے لیے تیل کا ذخیرہ بحیرہ کیسپئن میں ہے جس پر دنیا کی بڑی طاقتوں کی اور خاص طور سے امریکہ کی نظریں لگی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کیسپئن جانے کے لیے واحد راستہ بلوچستان ہے۔ اس لیے بلوچستان میں ایک ’گریٹ گیم‘ ہورہی ہے جس میں پاکستان اور بلوچستان مہرہ ہیں۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے تیل کے علاوہ امریکہ کی دہشت گردی کی جنگ کو بھی بلوچستان کی موجودہ صورتحال کے ساتھ جوڑا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ میں شمالی اتحاد کو استعمال کیا گیا اور عراق میں ایاد علاوی کو۔ اسی طرح امریکہ کا اگلا ہدف ایران ہے۔

حمید گُل نے اپنا مفروضہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کرنا ہے تو اس کے لیے واحد راستہ بلوچستان ہے کیونکہ عراق میں ایران کی سرحد کے ساتھ شیعہ آبادی کے علاقے ہیں جہاں سے امریکہ ایران پر حملہ نہیں کرسکتا۔

حمید گُل نے کہا کہ بلوچستان سے ملحق ایران کا صوبہ سیستان ہے جو بلوچ اور سنی مسلمانوں کی آبادی کا علاقہ ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی پارٹی مجاہدین خلق کے سربراہ مسعود رجاوی کو امریکہ نے پہلے دہشت گرد قرار دے دیا تھا لیکن ڈیڑھ مہینہ پہلے ان کا نام اس فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ انہیں ایران میں گھسانے کے لیے بلوچ آبادی کا علاقہ استعمال کرے گا جس کے لیے بلوچستان میں بہت کچھ ہورہا ہے۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ نے کہا کہ ایک وقت میں بلوچستان میں سویت یونین کی انٹیلی جنس ایجنسی کے جی بی اور بھارت کی ایجنسی را بہت سرگرم تھیں لیکن زیادہ کامیاب نہیں ہوسکیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بلوچستان میں ان ایجنسیوں کے ایجنٹ اب بھی ان کے لیے اور اسرائیل کی موساد کے لیے سرگرم ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس مقصد کے لیے افغانستان میں را کے بیس یونٹس متعین کیے گئے ہیں۔

حمید گُل نے دعویٰ کیا کہ بلوچستان لبریشن آرمی کے ڈانڈے سیاست سے نہیں بلکہ ان چیزوں سے ملتے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں جبل السراج جو پہلے کے جی بی کا مرکز تھا وہ اب سی آئی اے، موساد اور را کا مرکز بن چکا ہے۔

انہوں نے بلوچستان کے گورنر اویس غنی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں افغانستان سے پچاس کروڑ روپے کا اسلحہ آیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے اتنی مقدار میں اسلحہ امریکہ کی مرضی کے بغیر پاکستان میں نہیں آسکتا۔

حمید گُل کا موقف تھا کہ پاکستان کے ساتھ ایک کھیل کھیلا جارہا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان پر امریکی مطالبات ماننے کے لیے دباؤ بڑھایا جائے۔ ان کے مطابق امریکی مطالبات یہ ہیں۔پاکستان اپنا ایٹمی پروگرام ترک کرے، کشمیر سے دستبردار ہو، اسلام کا تیاپانچا کرے اور حاکمیت اعلی کو خیرباد کہے۔

آئی ایس آئی کے سابق لیفٹیننٹ جنرل نے دعویٰ کیا کہ اگر ان مقاصد کے حصول کے لیے دباؤ کی انتہائی صورت یہ ہوسکتی ہے کہ بلوچستان کو پاکستان سے الگ کردیا جائے۔

66گوادر میگا سٹی؟
میگا سٹی کے دعوے اور غائب شہری سہولتیں
پرہیز علاج سے بہتر
جب پہلی اینٹ ہی ٹیڑھی تو دیوار کا کیا؟
66بلوچ کہانی، 17
بلوچستان کی روشن تصویر
66بلوچ کہانی: 16
بلوچوں کی معاشی زندگی پر اثرات
66بلوچ کہانی: 15
بگتیوں پر پی پی ایل کے اخراجات
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد