BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 24 April, 2005, 20:27 GMT 01:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حکومت معصوم و بے قصور ہے‘

اویس غنی
’جب بھی بلوچستان پر مذاکرات آگے بڑھنے لگتے ہیں تو تشدد کا کوئی واقعہ ہوجاتا ہے‘
بلوچستان کے گورنر اویس غنی نے کہا ہے کہ حکومت بلوچستان کے معاملہ میں بالکل معصوم اور بے قصور ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ گارنٹی سے کہتے ہیں کہ بلوچستان میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہوا اور نہ ہوگا۔

گورنر اویس نے کہا کہ جب بھی بلوچستان پر مذاکرات آگے بڑھنے لگتے ہیں اور مثبت اشارے آنے لگتے تو تشدد کا کوئی واقعہ ہوجاتا اور مذاکرات کے عمل میں تعطل آجاتا ہے۔

بلوچستان کے گورنر اویس غنی آج لاہور میں بلوچستان کے مسئلہ پر منعقد کیے گئے ایک سیمینار سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے اس خطاب میں بلوچستان پر صدر مشرف کی پالیسی اور قوم پرستوں سے مذاکرات کی بہت سی تفصیلات بتائیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت مذاکرات کے عمل سے مسائل کا حل نکالے گی چاہے کچھ ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کے واقعات کے باوجود حکومت نے صبر و تحمل اور احتیاط کی پالیسی اختیار کی ہے اور جوابی کاروائی سے گریز کیا ہے۔

گورنر نے کہا کہ یہ بات درست ہے کہ بندوق کے زور پر کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے اور ایک پشتون ہونے کے ناطے وہ یہ بات اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ہم پر راکٹ پھینک رہے ہیں اور ہمارے ارد گرد بم پھٹ رہے ہیں اور بندوق کے استعمال کا الزام بھی حکومت پر لگتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سوئی اور ڈیرہ بگتی کے تشدد کے واقعات کے بعد فوجی آپریشن کا پورا جواز موجود تھا لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں تخریب کار راکٹ اور مارٹر استعمال کررہے ہیں، کلاشنکوف تو چھوٹی چیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوئی میں گیس تنصیبات پر حملہ میں ساڑھے چھ سو راکٹ داغے گئے اور چھوٹی بندوقوں اور مشین گنوں کے چودہ ہزار سے زیادہ فائر کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ سوئی اور ڈیرہ بگتی میں حملوں کے بعد حکومت کی مجبوری تھی کہ کارروائی کرے لیکن یہ فوجی آپریشن نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ سوئی کی تنصیبات کی حفاظت کے لیے حملہ آوروں کے خلاف ملٹی بیرل راکٹ لانچرز استعمال کیے جاتے جنہیں پولیس یا پیرا ملٹری فورس نہیں چلا سکتی تھی اس لیے فوج کو بلایا کیا گیا۔

گورنر اویس غنی نے کہا فوج کو وہاں پر تین واضح ہدایات دی گئیں۔ ایک یہ کہ وہ گیس تنصیبات کی حفاظت کرے۔ دوسرے فوجی آپریشن نہ کرے اور تیسرے کسی تخریب کار یا دہشت گرد کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے صوبائی حکومت کو اعتماد میں لے۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے ان تینوں باتوں پر عمل کیا ہے اور ایک گولی بھی نہیں چلائی۔

گورنر نے کہا کہ بلوچستان میں کوئی گورنر راج نہیں لگا اور نہ لگے گا اور یہ سیاسی حکومت چلتی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ انہیں صوبہ کا گورنر لگانے سے پہلے صدر جنرل پرویز مشرف نے ان سے دو گھنٹے کی ملاقات کی تھی اور تین رہنما پالیسی اصول بتائے تھے جن پر عمل ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک پالیسی اصول یہ تھا کہ جو سیاسی عمل چلا ہے اس پر خاصی تنقید ہے لیکن اسے آگے چلانا ہے۔ انہیں بتایا گیا کہ منتخب سیاسی حکومت کی حمایت کرنی ہے اور اس کی حفاظت کرنی ہے تاکہ یہ حکومت اپنی مدت پوری کرے۔

گورنر نے کہا کہ دوسرا پالیسی اصول یہ تھا کہ ماضی میں بلوچستان کو اس کا حق نہیں ملا اور ترقی کے کاموں میں منصفانہ حصہ نہیں ملا جبکہ بلوچستان نے پاکستان کی معیشت کو قدرتی گیس فراہم کر کے اس کی معیشت کی مدد کی اس لیے اکتوبر انیس سو ننانوے کے بعد صوبہ میں ترقیاتی کاموں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ انہیں بتایا گیا کہ اب ترقیاتی کاموں کی رفتار کو برقرار رکھنا ہے اور یقینی بنانا ہے کہ ترقیاتی منصوبے وقت پر مکمل ہوں اور نئے منصوبوں کی نشان دہی کی جائے۔

گورنر نے کہا کہ جنرل مشرف نے انہیں تیسرا رہنما پالیسی اصول یہ بتایا تھا کہ ماضی کی زیادتیوں کی وجہ سے بلوچستان کے لوگوں میں پاکستان کے بارے میں گلے شکوے ہیں، انہیں دور کرنے کے لیے قومی مصالحت کا عمل شروع کرنا ہے۔

گورنر نے کہا انہوں نے بلوچستان میں مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا اور آج یہ جس سطح پر ہے وہ ان کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی فضا پیدا کرنے میں انہیں آٹھ ماہ سے زیادہ لگے اور اس دوران میں ان کے دروازے سب کے لیے کھلے رہے اور اس کے لیے وہ خود بھی ایک سیاستدان کے گھر پر بھی گئے جو گورنر ہاؤس نہیں آنا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ بی این پی کے رکن قومی اسمبلی رؤف مینگل ان کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ مذاکرات وفاقی حکومت کرے، اکبر بگتی سے بات چیت کی ابتدا کرے اور ان مذاکرات کا ایجنڈا کھلا ہو۔ گورنر نے کہا کہ انہوں نے اس پر صوبہ کے وزیراعلی جام یوسف سے بات کی اور انہوں نے کہا کہ وہ اسے انا کا مسئلہ نہیں بنائیں گے اور وفاقی حکومت ہی مذاکرات کرے۔

گورنر نے کہا نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری طارق عزیز، حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین اور سنیٹر مشاہد حیسن نے بات چیت شروع کی اور بلوچستان حکومت نے انہیں سہولتیں بہم پہنچائیں۔

گورنر اویس غنی نے کہا کہ بعد میں بلوچ سیاستدانوں نے کہا کہ ایجنڈے کے تحت مذاکرات ہوں اور انہوں نے دو الگ الگ ایجنڈے دیے جس پر بات چیت شروع ہوئی۔

گورنر نے کہا کہ اس دوران میں صدر جنرل مشرف نے انہیں اکبر بگتی سے بات چیت کرنے کے لیے کہا اور وہ ڈیرہ بگتی گئے جہاں ان کی اکبر بگتی سے تین گھنٹے بات چیت ہوئی جس میں سے ایک گھنٹہ علیحدگی میں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ اس بات چیت میں اکبر بگتی نے کہا کہ مرکز ہمیں دبانا چاہتا ہے اور اگر یہاں چھاؤنی بنے گی تو اس سے بلوچوں کی آزادی میں فرق آئے گا۔ گورنر نے کہا کہ انہوں نے اکبربگتی سے کہا کہ صوبہ سرحد میں متعدد جگہوں پر چھاؤنیاں ہیں ان سے پشتونوں کی آزادی میں تو کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا بلکہ ہمیں فائدہ ہوا۔

گورنر نے کہا کہ اکبر بگتی کا کہنا تھا کہ پتشتوں کو اس لیے فائدہ ہوا کہ ان کا فوج میں حصہ ہے تو انہوں نے اُن سے کہا کہ وہ بھی بلوچستان میں چھاؤنیاں بننے دیں اور فوج میں اپنا حصہ بنا لیں اور فائدہ اٹھائیں۔

گورنر اویس غنی نے بتایا کہ انہوں نے نواب اکبر بگتی سے یہ بھی کہا کہ وہ خود گورنر اور وزیراعلی رہ چکے ہیں اور انہیں حکومت کی مجبوریوں کا علم ہے کہ جب امن و امان کا معاملہ ہو تو اسے مجبوری میں کوئی قدم لینا پڑتا ہے۔

گورنر کے بقول انہوں نے اکبر بگتی سے کہا کہ بلوچستان میں بم پھٹ رہے ہیں اور مائنز پھٹ رہی ہیں اور جب پولیس سے یہ معاملہ کنٹرول نہیں ہوگا تو پیرا ملٹری فورس آئے گی اور اس سے بھی کنٹرول نہ ہو تو فوج آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ اکبر بگتی کا بھی ایک نظریہ تھا جو انہوں نے سُنا۔ تاہم گورنر نے اس کی تفصیل نہیں بتائی۔

گورنر نے کہا کہ قوم پرستوں کے کہنے پر اکبر بگتی سے مذاکرات کے عمل کی ابتدا کی گئی لیکن اس دوران میں امن و امان کی صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی اور کوئٹہ اور کوہلو میں بم چلتے رہے۔

گورنر نے کہا کہ انہیں اکبر بگتی سے گلہ ہے کہ کہ جب بلوچستان پر مذاکرات کا سلسلہ کامیابی سے آگے بڑھنے لگا اور ایسے مثبت اشارے ملنے لگے کہ پارلیمانی کمیٹی مثبت نتیجہ پر پہنچ جائے گی تو مینگل گروپ نے کمیٹی کا بائیکاٹ کردیا اور فوراً سوئی میں تشدد کا واقعہ ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ اس کے بعد چودھری شجاعت حسین نے پارلیمینٹ میں بیان دے دیا کہ کمیٹی کے اکتیس میں سے ستائیس نکات پر حکومت کو اتفاق ہے۔

انہوں نے کہا کہ ساتھ ہی صدر مشرف نے بڑا اشارہ دیا کہ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ میں مرکز اور صوبوں کا حصہ نصف نصف تقسیم ہو جبکہ بلوچستان صوبوں کے لیے اننچاس فیصد مانگ رہا تھا۔ انہوں نے کہا صدرمشرف نے یہ بھی کہا کہ صوبوں میں وسائل کی تقسیم کے لیے آبادی کے ساتھ پسماندگی، رقبہ اور محصولات کو بھی تقسیم کے پیمانے میں شامل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ جیسے ہی یہ بات ہوئی چند روز کے بعد ڈیرہ بگتی میں تشدد کا واقعہ سامنے آگیا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت بالکل معصوم اور بے قصور ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے پہل کرتے ہوئے ارکان پارلیمینٹ کو دعوت دے کر ڈیرہ بگتی بلایا کہ دیکھیں کہ وہاں جاکر خود دیکھیں کہ کیا ہوا جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حکومت کی پالیسی کتنی شفاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان پر مذاکرات کو کامیاب بنانے کے لیے حکومت ایک سو دس فیصد مخلص ہے اور اسی عمل سے مسئلہ کا حل نکالے گی چاہے کچھ ہوجائے۔

گورنر بلوچستان نے کہا کہ پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد آئین میں ترمیم کی ضرورت پڑے گی جس کے لیے پارلیمینٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی لیکن حکومت اسے مکمل قومی اتفاق رائے سے منظور کرانا چاہتی ہے۔

گورنر بلوچستان نے کہا کہ ان کا صوبہ کے بارے میں غیر متعصبانہ تجزیہ ہے کہ یہ تبدیلی کے عمل سے گزر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ کا قبائلی معاشرہ ترقی کی طرف گامزن ہے جس میں متوسط طبقہ پیدا ہورہا ہے جس کا قبائلی اشرافیہ سے ٹکراؤ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اشرافیہ چیزوں کو جوں کا توں رکھنا چاہتی ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ سیمینار میں موجود سنیٹر ثنا اللہ بلوچ، سنیٹر امان کنیرانی، صوبائی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی بلوچ اور عبدالحئی بلوچ اشرافیہ سے نہیں بلکہ متوسط طبقہ سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تبدیلی کا یہ عمل ایک مشکل دور ہے اور اسے آگے لے کر چلنا ایک چیلنج ہے۔

گورنر اویس غنی نے بلوچستان میں پیراملٹری فورسز کی بڑی تعداد کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کی افغانستان سے بارہ سو کلومیٹر لمبی سرحد اور ایران سے ساڑھے نو سو کلومیٹر لمبی سرحد مشترک ہے جبکہ ساڑھے سات سو کلومیٹر لمبی ساحلی پٹی ہے اور اس کی سرحدیں پنجاب، سرحد، فاٹا اور سندھ کے صوبوں سے لگتی ہیں اس لیے ان فورسز کی موجودگی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے منشیات کی اسمگلنگ روکنا ایک اہم مسئلہ ہے۔

گورنر نے کہا کہ پنجاب میں ایک سو کلومیٹر لمبی سڑک سے ایک کروڑ آبادی کو فائدہ ہوتا ہے لیکن بلوچستان میں آبادی کم ہے اور ایک سو کلومیٹر لمبی سڑک سے صرف تیس پینتیس ہزار لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا اسی وجہ سے ترقی کے معمول کی سوچ کے تحت بلوچستان کو ترقی نہیں دی جاسکتی اور اس کی ترقی کے لیے ایک اسٹیریٹجک سوچ کی ضرورت ہے جو اب اختیار کی گئی ہے۔

گورنر اویس غنی نے اپنی تقریر کے بعد قوم پرست رہنما عبدالحئی بلوچ سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مرکز اور تمام صوبے اس معاملہ کو حل کرنے پر متفق ہیں اور یہ بلوچستان کے لیے بہترین موقع ہے جس کی کامیابی کے لیے وہ مذاکرات میں تعطل کو دور کریں۔

66بلوچ کہانی: 15
بگتیوں پر پی پی ایل کے اخراجات
66بلوچ کہانی،14
سوئی گیس، ایک دولت یا محرومی
66بلوچ کہانی۔13
متعدد بلوچ سردار آپس میں رشتہ دار ہیں
66بلوچ کہانی،12
سوئی کی چار سو ایکڑ زمین کا مالک کو ن ہے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد