عزیزاللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ |  |
 |  بگتی قبائل کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 33 ہندؤ شامل تھے |
جمہوری وطن پارٹی نے ڈیرہ بگتی میں فرنٹیئر کور اور بگتی قبائل کے مابین جھڑپ میں ہلاک ہونے والے اکسٹھ افراد کی فہرست جاری کی ہے جس کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد میں تینتیس ہندؤ ہیں جن میں انیس بچے اور تین خواتین شامل ہیں۔ ڈیرہ بگتی میں سترہ مارچ کو فرنٹیئر کور اور بگتی قبائل کے مابین جھڑپ میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کے بارے میں متضاد دعوے کیے گئے تھے۔ نواب اکبر بگتی کے مطابق اس واقعے میں ساٹھ سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں تینتیس ہندؤ شامل ہیں۔ اس بارے میں جمھوری وطن پارٹی کے ترجمان اور بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سینیٹر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے ایک فہرست جاری کی ہے جس میں ہلاک شدگان اور زخمیوں کے نام درج ہیں۔ اس فہرست کے مطابق انیس ہندؤ بچے تین ہندؤ خواتین اور گیارہ ہندؤ مرد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ انیس ہندؤ مرد اور پانچ ہندؤ خواتین زخمی ہو ئے ہیں۔ اس طرح اٹھائیس بگتی ہلاک جبکہ تینتیس زخمی ہو ئے ہیں۔ تینتیس زخمیوں کے نام درج نہیں ہیں۔ امان اللہ کنرانی نے کہا ہے کہ ڈیرہ بگتی کے واقعے کے حوالےسے بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے درخواست جمع کرائی گئی تھی جس پر عدالت نے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ اتنی ہلاکتوں کے باوجود پولیس نے ایف آیی آر درج نہیں کی ہے۔ انہوں نے دعوی کیا ہے کہ سترہ مارچ کے واقعے میں پینتیس ایف سی کے اہلکار ہلاک ہوئے تھے اور کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا تھا لیکن ایف سی کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان کہ آٹھ اہلکار ہلاک اور چوبیس زخمی ہو ئے ہیں۔ ڈیرہ بگتی کے رابطہ افسر عبدالصمد لاسی نے اس واقعے کے بعد کہا تھا کہ بیس سے پچیس بگتی قبا ئل کے لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ ان دنوں حکمران مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور نواب اکبر بگتی کے مابین ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن علاقے میں تاحال بے یقینی کی صورتحال پائی جاتی ہے۔ بگتی قبائل اور اس کے جوان اپنے اپنے مورچوں میں موجود ہیں۔ جمھوری وطن پارٹی کے ترجمان نے اس تاثر کو غلط قرار دیا ہے کہ علاقے میں حالات بہتر ہو رہے ہیں۔ |