تین رکنی کمیٹی کے قیام پر اتفاق | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیرہ بگتی میں چوہدری شجاعت حسین اور نواب اکبر بگتی کے درمیان ملاقات میں ایک تین رکنی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو ڈیر بگتی اور سوئی کے حالات کے حوالے سے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ چوہدری شجاعت حسین اور سینیٹر مشاہد حسین نے آج پھر ڈیرہ بگتی میں نواب اکبر بگتی سے ملاقات کی ہے جس میں ڈیرہ بگتی اور سوئی میں جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے تجاویز پر بات چیت کی گئی ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ تین رکنی کمیٹی میں نواب اکبر بگتی اور حکومت کے نمائندے کے علاوہ ایک غیر جانبدار نمائندہ ہوگا جس کے لیے انھوں نے کہا ہے کہ نواب اکبر بگتی نے ان پر یعنی مشاہد حسین پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ سید مشاہد حسین نے بلوچ رہنما سے اپنی بات چیت کو خاصا مثبت قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ آج کے مزاکرات سے جہاں تعطل ٹوٹا ہے وہاں حالات بھی معمول پر آ رہے ہیں۔ اس بارے میں ڈیرہ بگتی میں نواب اکبر بگتی کے پوتے براہمدغ بگتی نے کہا ہے کہ مذاکرات مثبت رہے ہیں اور ڈیرہ بگتی اور سوئی کے حالات بہتر کرنے کے لیے بات چیت کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا اور چوہدری شجاعت حسین کچھ روز بعد پھر ڈیرہ بگتی آییں گے۔ انھوں نے کہا ہے کہ مذاکرات میں یہ بات طے ہوئی ہے کہ ان مذاکرات کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں بتایا جائے گا۔ اس سلسلے میں نواب اکبر بگتی سے رابطہ کرنے کی بارہا کوشش کی گئی لیکن رابطہ قائم نہ ہو سکا۔ چوہدری شجاعت حسین تین روز میں دوسری مرتبہ ڈیرہ بگتی گئے ہیں اور نواب اکبر بگتی سے مذاکرات کیے گئے ہیں۔ آج صبح چوہدری شجاعت حسین سینیٹر مشاہد حسین اور شیر علی مزاری سوئی پہنچے جہاں سے شیر علی مزاری اکیلے ہیلی کاپٹر پر ڈیرہ بگتی گئے جبکہ چوہدری شجاعت اور مشاہد حسین سوئی میں ایف سی کے حکام کے ساتھ رہے جنھیں وہاں سوئی اور ڈیرہ بگتی میں موجودہ صورتحال کے حوالے سے آگاہ کیا گیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین اور جنرل سیکرٹری سینیٹر مشاہد حسین تین دن کے وقفے کے بعد دوسری مرتبہ سوئی اور ڈیرہ بگتی کے دورے پر آئے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||