BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 01 April, 2005, 02:08 GMT 07:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوادر: زمین سونا بن گئی ہے مگر . . .

گوادر
گوادر میں بڑے صنعتی پراجیکٹ پر عمل بھی شروع ہونے والا ہے
چند برس پہلے تک گوادر ایک چھوٹا سا ساحلی قصبہ تھا۔ یہاں شہری سہولتوں کی کمی نے یہاں بسنے والوں کی زندگی کوئی ایسی قابل رشک نہیں بنائی تھی کہ باہر کا کوئی اسے اب تک مسکن بنانے کی کوشش کرتا۔

لیکن گزشتہ چند برسوں میں یہاں بندرگاہ اور ساحلی شاہراہ کی تعمیر سے اس علاقے کی بنجر اور خشک زمین سونا بن گئی ہے۔ علاقے سے باہر کے لوگ بڑے پیمانے پر یہاں زمینیں خرید رہے ہیں جس سے ان کی قیمت غیرمعمولی طور پر آسمان سے باتیں کرنے لگی ہے۔

گوادر میں تعمیر تو صرف ایک فائیو سٹار ہوٹل ہی ہو رہا ہے۔ اس ساحلی شہر میں تعمیرات کا بڑے پیمانے پر کام تو کوئی بظاہر شروع نہیں ہوا لیکن رہائشی اور دیگر مقاصد کے لئے زمینوں کا کاروبار زور شور سے جاری ہے۔

اس کا ثبوت یہاں کُھلنے والے پراپرٹی ڈیلرز کے سینکڑوں دفاتر ہیں۔ روزانہ ایکڑوں میں اراضی کی خریدوفروخت کا کاروبار کرنے والے یہ دفاتر ایک سے ایک بڑھ کر سجے دھجے ہیں۔ اس سے ان کے کاروبار کے منافع بخش ہونے کا خوب اندازہ ہوتا ہے۔ ایسے پراپرٹی دفاتر تو بڑے شہروں میں بھی دیکھنے کو نہیں ملے۔

پراپرٹی ڈیلرز یونین کے صدر طارق رند نے اس بڑھتے ہوئے کاروبار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بندرگاہ اور ساحلی شاہراہ نے اس خطے کی کایا پلٹ دی ہے۔ ’جو زمین دو سال پہلے پچاس ہزار ایک لاکھ میں فروخت کی جا رہی تھی وہ اب پچاس لاکھ میں بک رہی ہیں۔’

اس کاروبار کی وجہ سے صرف دو سو تو پراپرٹی ڈیلرز کھل چکے ہیں جبکہ کئی سو تو بغیر دفاتر کے سڑکوں پر خریدو فروخت کرتے رہتے ہیں۔

طارق رند کا خیال ہے کہ یہ قیمتیں ابھی مزید اوپر جائیں گی۔

لیکن بلوچ قوم پرست اس خرید و فروخت کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ نیشنل پارٹی کے رہنما عابد رحیم کا کہنا تھا کہ یہ سب سے بڑا فراڈ کیا جا رہا ہے۔ اس زمینوں کے فروخت سے یہاں کے بلوچوں کو اقلیت میں بدلنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ ’اس کاروبار میں صرف دس فیصد مقامی لوگ ہیں۔ باقی سب باہر سے آئے ہیں۔’

زمینوں کا کاروبار کرنے والے قوم پرستوں کے اعتراضات کو بےبنیاد قرار دیتے ہیں۔ ریئل اسٹیٹ ڈیلر طارق رند کا کہنا ہے کہ مخالفت کرنے والوں کا وقت بھی وہ دیکھ چکے ہیں۔ ’ان مخالفین کے دور میں یہاں کیا ہوا۔ اب اگر لوگوں کو کام مل رہا ہے ان کا منافع ہو رہا ہے تو انہیں کیا اعتراض ہے۔’

گوادر
ایک طرف فائیو سٹار ہوٹل تعمیر ہو رہا ہے جب کہ دوسری طرف گوادر کے رہنے والے ویسے ہی ہیں جیسے وہ پہلے تھے

پراپرٹی کا بڑھتا کاروبار ایک طرف گودار کے عام شہری ایک جانب تو ان میگا پراجیکٹس اور دوسری جانب شہری سہولتوں کی کمی کو دیکھ کر پریشان ہیں۔ مقامی صحافی بہرام بلوچ کا کہنا ہے کہ اربوں روپے کے منصوبے تو مکمل کئے جا رہے ہیں لیکن شہر کی حالت پر توجہ کوئی نہیں دے رہا ہے۔ ’اس شہر کا جو حال ہے کہ یہاں پانی بھی پیسے سے ملتا ہے تو یہ کیسے میگا سٹی بنے گا۔’

گوادر کے شہریوں کا خیال ہے قیمتوں کے آسمان سے بات کرنے سے انہیں فائدہ نہیں نقصان ہو رہا ہے۔ ایک شہری قادر بلوچ نے مجھے ہر سال چڑھتے سمندر سے متاثر ہونے والے افراد کے گھر بار دیکھاتے ہوئے کہا کہ ان افراد کا گھر آپ دیکھ رہے ہیں درو دیوار گر چکے ہیں یہ کہاں جائیں۔ ایک پلاٹ بھی اب پچاس لاکھ کا مل رہا ہے۔

گوادر کی زمینیں صرف گوادر نہیں بلکہ پورے ملک میں فروخت کی جا رہی ہیں۔ ہر بڑے شہر میں سڑک کنارے بڑے بڑے اشتہارات کے ذریعے نئی ہاوسنگ سکیموں کا اعلان ہو رہا ہے۔ اس صورتحال میں بلوچستان حکومت عام شہریوں کو جعلی سوسائٹیوں سے بچانے کی خاطر کیا اقدامات کر رہی ہے۔

یہ سوال میں نے سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع کے سامنے رکھا تو انہوں نے بتایا کہ گوادر ڈیولیمپنٹ اتھارٹی کا قیام ہی اسی مقصد سے تھا۔ لیکن لینڈ مافیا دیگر شہروں کی طرح یہاں بھی سرگرم ہے اور ہماری کوشش ہے کہ کوئی سکینڈل سامنے نہ آئے۔

گوادر کو میگا سٹی بنانے کے سرکاری دعوے اور راتوں رات پیسہ بنانے کی خواہش میں سرمایہ کار اس علاقے کو مارکیٹ تو دھڑلے سے کر رہے ہیں لیکن گوادر میں شہری سہولیات کی ناگفتہ بہ صورتحال کوئی اور تصویر پیش کر رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد