BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 September, 2004, 22:05 GMT 03:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوادر میں زور دار دھماکے

گوادر میں تشدد
اس سال مئی میں گوادر میں بم دھماکے میں تین چینی انجینیئر ہلاک ہوئے تھے
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں اتوار کو رات گئے تین دھماکے ہوئے لیکن کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

دھماکے اس قدر زور دار تھے کہ ان کی آواز دور دور تک سنی گئی ہے۔ گوادر پولیس تھانے کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ ایک دھماکہ فش ہاربر کالونی اور دو دھماکے ٹیلیفون ایکسچینج اور ڈاکخانے کے قریب ہوئے ہیں۔ یہ دھماکے رات ساڑھے دس اور پونے بارہ بجے کے درمیان ہوئے ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ دیسی ساخت کے بم تھے جن سے زیادہ نقصان نہیں ہوتا لیکن ان کی آواز کافی گونجدار ہوتی ہے ۔

دھماکوں سے شہر میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔ گوادر میں دھماکے معمول بنتے جا رہے ہیں۔ گوادر میں اس سال مئی کے پہلے ہفتہ میں ایک کار بم دھماکے میں تین چینی انجینیئر ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے۔ بعد میں دھماکوں کا سلسلہ گوادر میں تو جاری رہا بلکہ یہ پھیل کر تربت تک جا پہنچا جہاں راکٹ حملے میں ایک نوجوان ہلاک اور تین زخمی ہوگئے تھے۔

حکومت نے گزشتہ ماہ گوادر اور تربت کے سرحدی علاقوں میں فوجی کارروائی بھی کی جس میں بھاری اسلحہ استعمال کیا گیا تھا۔ سرکاری زرائع کے مطابق یہ کارروائی جرائم پیشہ افراد کے خلاف کی گئی تھی اور بقول وزیر اعلیٰ بلوچستان اس کارروائی میں پچیس کیمپ دریافت ہوئے تھے جن میں وہ تمام مواد موجود تھا جو دہشت گردی کے لیے استعمال ہو سکتا تھا۔ تاہم ان پچیس کیمپوں سے کتنے افراد گرفتار ہوئے ہیں ان کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔ قوم پرست جماعتیں یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ ان کے سیاسی کارکنوں کو بلا جواز غیر قانونی طور پر صوبے کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد