BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 May, 2004, 11:37 GMT 16:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوادر: تیرہ مشتبہ افراد گرفتار

گوادر
پیر کے روز ہونے والی کار بم حملے میں تین افراد ہلاک اور گیارہ زخمی ہوئے تھے
گوادر میں پولیس نے بم دھماکے کے حوالے سے اب تک تیرہ افراد کو گرفتار کیا ہے جن سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

گوادر میں ضلعی پولیس افسر عبدالعلی ترین نے بی بی سی کو بتایا ہے دو مشتبہ افراد کو رات گرفتار کیا گیا تھا جبکہ گیارہ افراد کو آج صبح گرفتار کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے چینی اور دیگر غیر ملکیوں کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں

یاد رہے کہ پیر کے روز نامعلوم افراد نے ایک گاڑی میں بم نصب کر دیا تھا جس کے پھٹنے سے قریب سے گزرنے والی چینی انجینیئروں کی گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچا جس سےتین چینی انجینیئر ہلاک اور دو پاکستانیوں سمیت گیارہ افراد زخمی ہو گئے تھے۔

بلوچستان کے وزیراعلیٰ سمیت دیگر اعلی عہدیدار گوادر میں ہیں جہاں حفاظتی اقدامات کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔

گوادر
گوادر میں دھماکہ ایک ریموٹ کنٹرول بم کے ذریعے کیا گیا تھا
پولیس کے مطابق مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں اور اس حوالے سے پولیس نے شہر کے تمام ہو ٹلوں کا ریکارڈ طلب کیا ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے ان دنوں میں گوادر کے ہوٹلوں میں کون کہاں رہا ہے۔

پولیس کے مطابق اس دھماکے میں استعمال ہونے والی آلٹو گاڑی انیس سو پچانوے میں کراچی سے چوری ہوئی تھی۔ اب انجن نمبر معلوم ہو گیا ہے اور یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ یہ گاڑی چوری کے بعد کس کے استعمال میں تھی۔

دریں اثنا منگل کے روز بلوچستان اسمبلی میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے اراکین نے گوادر میں بم دھماکے کے واقعے پر مذمتی قرارداد پاس کی ہے اور دو منٹ تک ایوان میں خاموشی اختیار کی گئی۔

نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی جان محمد بلیدی نے اجلاس میں کہا ہے کہ قوم پرست ترقی کے مخالف نہیں ہیں بلکہ انھیں خدشات لاحق ہیں جس کے لیے ان کا احتجاج جاری رہے گا۔

واقعے کی مذمت کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے مقامی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنا بلوچستان اور خصوصاً گوادر کے لوگوں کو روزگار فراہم نہ کرنا وفاقی حکومت کی منصوبہ بندی میں شامل ہے۔

پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ سب صوبائی خود مختاری نہ دینے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ وفاقی حکومت گوادر میں براہ راست اقدامات کر رہی ہے اور زمین کے مالک کو ایک طرح سے اپنی ہی زمین سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد