گوادر: تیرہ مشتبہ افراد گرفتار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوادر میں پولیس نے بم دھماکے کے حوالے سے اب تک تیرہ افراد کو گرفتار کیا ہے جن سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ گوادر میں ضلعی پولیس افسر عبدالعلی ترین نے بی بی سی کو بتایا ہے دو مشتبہ افراد کو رات گرفتار کیا گیا تھا جبکہ گیارہ افراد کو آج صبح گرفتار کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے چینی اور دیگر غیر ملکیوں کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں یاد رہے کہ پیر کے روز نامعلوم افراد نے ایک گاڑی میں بم نصب کر دیا تھا جس کے پھٹنے سے قریب سے گزرنے والی چینی انجینیئروں کی گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچا جس سےتین چینی انجینیئر ہلاک اور دو پاکستانیوں سمیت گیارہ افراد زخمی ہو گئے تھے۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ سمیت دیگر اعلی عہدیدار گوادر میں ہیں جہاں حفاظتی اقدامات کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
پولیس کے مطابق اس دھماکے میں استعمال ہونے والی آلٹو گاڑی انیس سو پچانوے میں کراچی سے چوری ہوئی تھی۔ اب انجن نمبر معلوم ہو گیا ہے اور یہ معلوم کیا جا رہا ہے کہ یہ گاڑی چوری کے بعد کس کے استعمال میں تھی۔ دریں اثنا منگل کے روز بلوچستان اسمبلی میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے اراکین نے گوادر میں بم دھماکے کے واقعے پر مذمتی قرارداد پاس کی ہے اور دو منٹ تک ایوان میں خاموشی اختیار کی گئی۔ نیشنل پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی جان محمد بلیدی نے اجلاس میں کہا ہے کہ قوم پرست ترقی کے مخالف نہیں ہیں بلکہ انھیں خدشات لاحق ہیں جس کے لیے ان کا احتجاج جاری رہے گا۔ واقعے کی مذمت کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے مقامی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنا بلوچستان اور خصوصاً گوادر کے لوگوں کو روزگار فراہم نہ کرنا وفاقی حکومت کی منصوبہ بندی میں شامل ہے۔ پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر عبدالرحیم زیارتوال نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ سب صوبائی خود مختاری نہ دینے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ وفاقی حکومت گوادر میں براہ راست اقدامات کر رہی ہے اور زمین کے مالک کو ایک طرح سے اپنی ہی زمین سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||