بلوچستان کمیٹی کی سفارشات مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی پارلیمان کی صوبہ بلوچستان سے متعلق ایک ذیلی کمیٹی نے اپنی تیس نکاتی سفارشات پر مبنی رپورٹ وزیراعظم شوکت عزیز کو پیش کردی ہے۔ آئینی ترامیم کے بارے میں ذیلی کمیٹی نے ’کنکرنٹ لسٹ‘ سے تیس نکات ختم کرکے ان معاملات کے اختیارات صوبوں کو دینے پر رضا مندی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ حتمی رپورٹ اتفاق رائے کے بعد ہی مرتب کی جائے گی۔ کمیٹی کے دو روزہ اجلاس کے اختتام پر منگل کے روز حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین اور سیکریٹری جنرل مشاہد حسین نے سیاسی کمیٹی کی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی۔ جس پر وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اس پر غور کرے گی۔ وزیراعظم نے پارٹی رہنماؤں کو بلوچستان بالخصوص سوئی اور ڈیرہ بگٹی میں پیدا ہونے والی کشیدگی سیاسی انداز میں ختم کرانے پر مبارکباد بھی دی۔ سید مشاہد حسین کے مطابق ان کی پیش کردہ رپورٹ میں سوئی گیس کی رائلٹی بڑھانےاور ملازمتوں میں مقرر کردہ کوٹہ کے مطابق بلوچستان کے لوگوں کو روزگار دینے کی سفارشات بھی شامل ہیں۔ دونوں روز کمیٹی کے اجلاس میں بلوچ اور پشتون قومپرست جماعتوں کے نمائندوں اور پیپلز پارٹی کے نمائندوں نے شرکت نہیں کی اور حکومت کی سفارشات کو ایک مذاق قرار دیا ہے۔ سینیٹر ثناء اللہ بلوچ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کنکرنٹ لسٹ‘ سے تمام سینتالیس نکات خارج کریں اور قدرتی وسائل کے محکمے بھی صوبوں کو دیں تو بات ہوگی ورنہ وہ حکومتی سفارشات کو قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں حق اور اختیار چاہیے اور ان کے بقول خیرات یا بھیک نہیں۔ چودھری شجاعت حسین پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ان تیس نکاتی سفارشات میں بلوچستان کی احساس محرومی دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے کے علاوہ صوبے کے مسائل حل کے حل کی خاطر انہوں نے درمیانی اور دیرینہ مدت کے اقدامات تجویز کئے ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعظم کو پیش کردہ سفارشات کمیٹی نے متفقہ طور پر منظوری کیں ہیں۔ بلوچستان کے بارے میں پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں نمائندگی رکھنے والی تمام جماعتوں کو نمائندگی حاصل ہے اور اس کے سربراہ چودھری شجاعت حسین ہیں۔ اس کمیٹی کی دو ذیلی کمیٹیاں ہیں جن میں سے سید مشاہد حسین سیاسی کمیٹی جبکہ وسیم سجاد آئینی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔ منگل کے روز چودھری شجاعت حسین کی صدارت میں دو روزہ اجلاس کے اختتام کے بعد بتایا گیا ہے کہ آئینی کمیٹی کی سفارشات کے مطابق آئین میں ترمیم کے لیے بل کا متن لکھنے کے لیے کوئی ’ڈرافٹنگ کمیٹی، نہیں بنے گی اور یہ کام ذیلی کمیٹی خود ہی کرے گی۔ سینیٹ سیکریٹریٹ سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ منگل کے روز اجلاس کے شرکاء نے اتفاق رائے سے کہا کہ آئین کی ’کنکرنٹ لسٹ‘ سے تیس نکات ختم کرنے اور ان معاملات کے اختیارات صوبوں کو دینے پر اصولی اتفاق کیا ہے۔ تاہم حتمی سفارشات کمیٹی کے تمام اراکین کی اتفاق رائے سے بعد میں مرتب کی جائیں گی۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ آئینی ادارے ’مشترکہ مفادات کی کونسل، کو فعال کیا جائے اور چھ ماہ میں کم از کم ایک بار اس کا اجلاس لازمی بلایا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||