شجاعت اور بگتی ملاقات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیرہ بگتی میں چودھری شجاعت حسین اور نواب اکبر بگتی کے مابین ملاقات چار گھنٹے جاری رہی جس کے بعد چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ وہ دو تین دنوں کے اندر اس بارے میں کوئی بتائیں گے۔ چودھری شجاعت حسین جمعرات کی صبح سوئی پہنچے جہاں سے ہیلی کاپٹر کےذریعے وہ ڈیرہ بگتی آئے جہاں انہوں نے وہ مقامات دیکھے جہاں کچھ روز پہلے ایف سی اور مقامی قبائل کے مابین جھڑپ میں نقصان ہوا تھا۔ ڈیرہ بگتی سے آمدہ اطلاعات کے مطابق سوئی سے ایف سی کے اہلکار چودھری شجاعت حسین کے ساتھ ڈیرہ بگتی آئے لیکن نواب اکبر بگتی کے قلعے کی طرف وہ اور مشاہد حسین اکیلے گئے۔ اس ملاقات کی تفصیل بتاتے ہوئے وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف نے کہا کہ چودھری شجاعت حسین ڈیرہ بگتی میں ملاقات ہوئی ہے جس کے بعد صورتحال واضح ہو گی۔ اس ملاقات میں سینیٹر مشاہد حسین بھی موجود تھے۔ انہوں نے اسلام آباد جا کر صحافیوں کو بتایا ہے کہ ملاقات اچھے ماحول میں ہوئی ہے اور نواب اکبر بگٹی نے ان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ ڈیرہ بگتی میں جمعرات کو بھی ماحول انتہائی کشیدہ رہا جہاں فرنٹیئر کور اور مقامی قبائلیوں نے اپنے اپنے مورچے سنبھال رکھے ہیں۔ ادھر آج ڈیرہ بگتی میں ہلاکتوں کے حوالے سے ہندو برادری نے سوگ منایا ہے اور مذہبی رسومات ادا کی ہیں۔ اقلیتی امور کے صوبائی وزیر جے پراکاش نے کہا ہے کہ ڈیرہ بگتی میں بیس ہندو ہلاک ہوئے ہیں اور مندر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ہندو کل یعنی جمعہ کے روز ہولی کا تہوار انتہائی سادگی سے منائیں گے۔ نواب اکبر بگتی نے کہا ہے کہ ایف سی کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے ہندووں کی تعداد تینتیس ہو گئی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||