BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 March, 2005, 01:31 GMT 06:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان:ایف سی کیخلاف مظاہرے

احتجاجی مظاہرے
گزشتہ چند دنوں سے صوبے کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں
ڈیرہ بگتی میں ایف سی کی کارروائیوں کے خلاف صوبے کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

نوشکی میں پہلی مرتبہ خواتین نے احتجاجی ریلی میں شرکت کی اور حکومت کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی۔ بلوچ قوم پرست جماعتوں کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے کارکنوں نے حکومتی کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

سبی میں جمہوری وطن پارٹی کے زیر انتظام ریلی کی قیادت نواب اکبر بگتی کے نواسے نے کی ہے۔اس ریلی میں مقررین نے کہا ہے کہ فرنٹیئر کور کے اہلکاروں کے فائرنگ اور بھاری اسلحے سے حملے میں بڑی تعداد میں معصوم شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

گزشتہ چند دنوں سے صوبے کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ خاران گوادر اور ڈیرہ مراد جمالی میں مظاہرین نے کہا ہے کہ حکومت بلوچوں کو دیوار سے لگانے کی کوشش کرہی ہے جس کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔

قبل ازیں نواب اکبر بگتی نے پارلیمنٹ کو ’بے حیثیت‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ صدر جنرل پرویزمشرف جو فوج کے بھی سربراہ ہیں میرے لوگوں کے قتل کے ذمہ دار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ’انہوں نے باسٹھ لوگوں کو مارا ہے ، وہ دو سو کو مار سکتے ہیں، چار سو کو مار سکتے ہیں لیکن وہ پورے بلوچستان کو نہیں مار سکتے‘۔

جمہوری وطن پارٹی کے قائد نواب اکبر بگتی سے ملاقات کے لیے جانے والے پارلیمانی وفد کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بارے میں بی بی سی اسلام آباد کے ظفر عباس اور بی بی سی کوئٹہ کے عزیزاللہ کی رپورٹوں کے مطابق اکبر بگٹی نے کہا کہ’ملک میں ایک فوجی حکمران ہے اور پارلیمان کی بحیثیت مجموعی کوئی حیثیت نہیں ہے لہذا اس وفد کی کیا اہمیت ہو گی‘۔

News image
پارلیمانی وفد ڈیرہ بگتی میں۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ کے پندرہ ارکان مشتمل وفد نے، جن میں حزب اختلاف کے ارکان بھی شامل تھے منگل کو سوئی اور ڈیرہ بگٹی کے دورے کے دوران نواب اکبر بگٹی سے ملاقات کی تھی جس میں اطلاعات کے مطابق نواب اکبر بگتی نے حکومتی ارکان سے باقاعدہ بات چیت نہیں کی۔

ظفر عباس کے مطابق نواب بگتی نے نیم فوجی دستوں کے موجودگی کے بارے میں کہا کہ ’یہ میری زمین ہے اور اس پر موجودگی کا انہیں کوئی حق نہیں‘۔

یہ وفد ایف سی کے اس کیمپ کا محاصرہ ختم کرانے کی بات چیت کے لیے گیا ہے جہاں تین سو سے زائد جوان اور دوسرے لوگ محصور بتائے جاتے ہیں۔

مسلح بگٹی
بگٹی قبائلی جدید اسلحہ سے مسلح ہیں اور مزاحمت کے لیے تیار ہیں

اس بار میں عزیز اللہ نے اپنی رپورٹ کے مطابق جمہوری وطن پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات سینیٹر امان اللہ کنرانی نے کہا ہے کہ نواب اکبر بگتی نے وفد کو بتایا ہے کہ وہ موجودہ حالات کا جرات سے مقابلہ کر رہے ہیں ۔

ادھر فرنٹیئر کور کے بریگیڈییر سلیم نواز نے کہا ہے کہ حالات انتہائی کشیدہ ہیں اور اس کا کوئی سیاسی حل نکالنا چاہیے۔

امان اللہ کنرانی سے جب میں نے پوچھا کہ آخر نواب اکبر بگتی نے موجودہ حالات سے نکلنے کا کیا حل تجویز کیا ہے تو انھوں نے کہاکہ نواب اکبر بگتی نے وفد کو بتایا ہے کہ وہ قتل ہو رہے ہیں اور اس کا حل قاتل ہی بتا سکتا ہے ہم نہ حکومت سے کوئی بھیک مانگیں گے اور نہ ہی کوئی مطالبہ کریں گے۔

انہوں نے کہا ہے کہ نواب بگتی کاشروع سے ایک جنرل مطالبہ ہے کہ لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد کیس میں ملوث ملزم کے خلاف باقاعدہ قانونی کارروائی کی جائے اور اب سترہ مارچ کو ہلاک ہونے والے معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے۔

اطلاعات کے مطابق پارلیمانی وفد اور اسلام آباد سے آئے ہوئے صحافی سوئی میں ایک رات قیام کے بعد بدھ کی صبح واپس جائیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد