’وفد مصالحت کے لئے نہیں آیا تھا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمہوری وطن پارٹی کے قائد نواب اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ پارلیمانی وفد کوئی مصالحتی کمشن نہیں تھا بلکہ سترہ مارچ کو ہونے والی تباہی کے بارے میں حقائق جاننے آیا تھا اس لیے اس کی کامیابی یا ناکامی کو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہو تا ہے۔ ٹیلیفون پر باتیں کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ علاقے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کسی وقت کوئی بڑی کارروائی ہو سکتی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ پارلیمانی وفد اور صحافیوں کو وہ بجھا ہوا اور ان بجھا اسلحہ دکھایا گیا جو شہر میں جگہ جگہ بکھرا پڑا تھا اس کے علاوہ ہندو محلے میں ہونے والی تباہی اور ہلاکتوں کے بارے میں انھیں بتایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ بلوچستان میں اقلیتی امور کے صوبائی وزیر جے پرکاش نے گزشتہ دنوں اسمبلی کے اجلاس میں کہا تھا کہ ڈیرہ بگٹی جھڑپ میں اٹھارہ ہندو ہلاک ہوئے ہیں اور مندر کو نقصان پہنچا ہے۔ نواب بگٹی نے کہا ہے کہ سترہ مارچ کو راکٹ نہیں بلکہ دور تک مار کرنے والا اسلحہ استعمال کیا گیا تھا۔ ادھر فرنٹیئر کور کے ترجمان نے کہا ہے کہ پارلیمانی گروپ کے دورے کے دوران بگٹی قبائل کے جنگجوؤں کی تعداد جان بوجھ کر کم دکھائی جا رہی تھی تاہم گروپ کو وہ تیئس چوکیاں دکھائی گئی ہیں جو پہاڑوں کے اوپر قبائل نے قائم کر رکھی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||