بلوچستان بارشیں، سولہ ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے مختلف شہروں میں سیلابی ریلے آ ئے ہیں۔ کوہلو پشین اور ژوب میں سیلابی ریلے اور مکانوں کی چھتیں گرنے سے سولہ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ ڈیرہ مراد جمالی میں تیں سو دیہات زیر آب آگئے ہیں۔ کوہلو کے ناظم نصیب اللہ مری نے کہا ہے کہ ان کے علاقے میں کچھ دنوں سے شدید بارشیں ہو رہی ہیں جن سے مال مویشی بہہ گئے ہیں اور کھڑی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ نالی سوری کے علاقے میں ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور ایک زخمی ہوا ہے۔لورالائی سے مقامی صحافی امانت حسین نے بتایا ہے کہ علاقے میں بارشوں اور سیلاب نے شدید تباہی پھیلا دی ہے مال مویشی بہہ گئے ہیں اور کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ضلع پشین کے ایک دیہات میں مکان کی چھت گرنے سے چار لڑکیاں ہلاک ہو گئی ہیں۔ اور ژوب میں گزشتہ روز ایک مکان کی چھت گر گئی تھی جس سے چار افراد ہلاک ہو ئے ہیں۔ ادھر ڈیرہ مراد جمالی کے ناظم محمد امیں عمرانی نے کہا ہے کہ دریائے ناڑی اور لہڑی نہر میں طغیانی آنے سے تیں سو دیہات زیر آب آگئے ہیں جبکہ وسیع رقبے پر کھڑی گندم کی فصل تباہ ہو گئی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ طغیانی سے لہڑی اور ڈیرہ بگٹی کا زمینی راستہ منقتع ہو گیا ہے۔ یاد رہے کہ بلوچستان میں فروری سے بارشوں اور برف باری کا سلسلہ شروع ہوا تھا جس میں سیلاب آئے، کئی بند ٹوٹے اور مکران ڈویژن میں تو ڈیموں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس بارے میں وفاقی حکومت نے صوبہ بلوچستان کو آفت زدہ علاہ قرار دے دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||