ریلوے لائنوں پر تین دھماکے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان کے شہر مچھ کے قریب ریل کی پٹڑی پر کم سے کم تین دھماکے ہوئے ہیں لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ یہ دھماکے کوئٹہ سے کوئی ساٹھ کلومیٹر دور جنوب میں مچھ کے قریب ہو ئے ہیں۔ ریلوے حکام نے کہا ہے کہ ریل کی پٹڑی تین جگہ پر ٹوٹی ہوئی ملی ہے۔ کوئٹہ میں لیویز کے اہلکار نے بتایا ہے کہ چار دھماکوں کی اطلاع ملی ہے اس وقت حکام تحقیقات کر رہے ہیں۔ گزشتہ کچھ روز سے بلوچستان اور سندھ کے علاقوں میں شدید بارشوں سے ریل کی پٹڑی کئی مقامات سے بہہ گئی ہے جس وجہ سے کل شام سے ریل گاڑیوں کی آمدو رفت معطل ہے۔ اس وقت مختلف سٹیشن پر گاڑیاں رکی ہوئی ہیں ۔ ریلوے حکام نے بتایا ہے کہ ریل کی پٹڑیوں کی مرمت کا کام مختلف مقامات پر جاری ہے۔ اس کے علاوہ کل رات تربت اور نوشکی میں دھماکے ہوئے ہیں۔ تربت میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہے لیکن نوشکی میں بجلی کے کھمبے کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا ہے جس سے قریبی علاقوں کو بجلی کر ترسیل منقطع ہو گئی ہے۔ دریں اثنا ایک نامعلوم شخص نے ٹیلیفون پر اپنا نام آزاد بلوچ بتایا ہے اور کہا ہے کہ ان تمام دھماکوں کی زمہ داری بلوچ لبریشن آرمی قبول کرتی ہے۔ آزاد بلوچ نے کہا ہے کہ وہ اس تنظیم کا نشرو اشاعت کا سیکرٹری ہے۔ بلوچستان میں جنوری میں لیڈی ڈاکٹر سے زیادت کے واقعے کے بعد نا معلوم افراد نے ریلوے پٹڑیوں، بجلی کے کھمبوں اور ٹیلیفون کے تنصیبا پر حملے شروع کیے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ اب ڈیرہ بگٹی کے واقعے کے بعد صوبہ کے مختلف شہروں میں ان دھماکوں میں مذید شدت آئی ہے۔ گزشتہ روز ڈھاڈر کے قریب نا معلوم افراد نے گیس پائپ لائین کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||