گوادر میں ہنگامے، سبی میں بارشیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں اس وقت ہنگامے پھوٹ پڑے جب کوسٹ گارڈز نے ایک بس سے ایرانی سامان اتار کر اپنے قبضے میں لے لیا۔ لوگو ں نے احتجاج کرتے ہوئے پتھراؤ کیا ٹائر جلا کر روڈ بلاک کردیے اور دکانوں میں توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ گوادر پولیس کے ایک انسپکٹر عصمت اللہ نے بتایا ہے کہ کوسٹ گارڈز کے اہلکاروں نے جب سامان اتارا تو لوگ نے سخت غصے کا اظہار کیا جس پر کوسٹ گارڈز نے ہوائی فائرنگ کی اور سامان لے کر چلے گئے۔ لوگوں نے احتجاج کرتے ہوئے تین دکانوں میں توڑ پھوڑ شروع کردی ایک گاڑی کو آگ لگا دی اور پتھراؤ شروع کر دیا جس سے تین افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی صحافی بہرام بلوچ نے کہا ہے کہ ایرانی سامان میں روز مرہ استعمال کی اشیاء ہیں جو یہاں مقامی لوگ اپنے گزر بسر کے لیے ایران سے لاتے ہیں۔ ان ساحلی علاقوں میں لوگوں کا گزر بسر ایرانی اشیاء پر ہوتا ہے کیونکہ پاکستان کے بے شہروں سے یہاں خوراک اور دیگر استعمال کی اشیاء نہیں لائی جا سکتیں۔ یہاں تک کہ ان علاقوں میں بجلی ایران سے فراہم کی جاتی ہے۔ پولیس انسپکٹر نے بتایا ہے کہ کوسٹ گارڈز نے متعلقہ لوگوں کا سامان واپس کر دیا ہے جس کے بعد حالات قابو میں ہیں۔تاہم مقامی لوگوں نے ٹیلیفون پر بتایا ہے کہ رات گئے تک علاقے میں کشیدگی جا ری رہی۔ اس واقعے کے خلاف مقامی ٹرانسپورٹرز نے جمعرات کے روز کے لیے پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا ہے اور اس بارے میں سیاسی جماعتوں نے ان کے حمایت کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ ادھر صوبہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیلابی ریلوں سے بڑے پیمانے پر تباہیاں ہوئی ہیں۔ سبی اور کوہلو سے پندرہ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جبکہ ادھر ڈیرہ مراد جمالی کے قریب ربیع نہر میں شگاف پڑنے اور طغیانی آنے سے کئی دیہات زیر آب آگئے ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق سیلابی ریلوں کا پانی اوچ پاور پلانٹ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ضلعی ناظم محمد امین عمرانی نے علاقے میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||