بلوچ سیاستدان کیا کہتے ہیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان پر لاہور میں منعقد کیے گئے سیمینار میں پنجاب کے مقررین نے کہا کہ بلوچوں کے ساتھ صرف عدل نہ کیاجائے بلکہ احسان سے بھی کام لیا جائے اور بلوچستان میں غربت اور بے روزگاری کے خاتمہ کے لیے کام کیا جائے۔ اس کے برعکس بلوچ رہنماؤں نے کہا کہ ہمیں احسان کی ضرورت نہیں سیاسی خود مختاری چاہیے، غربت کا خاتمہ نہیں اپنا حق چاہیے۔ سیمینار میں شریک تمام بلوچ سیاستدانوں کا اس بات پر اتفاق تھا کہ وفاق کے پاس دفاع، خارجہ امور اور کرنسی کے صرف تین شعبے ہوں اور باقی تمام اختیارات صوبوں کو دیے جائیں۔ پنجاب اور بلوچستان کے سیاستدانوں اور دانشوروں میں بلوچستان کے مسائل پر سوچ کا جو بنیادی فرق ہے وہ سیمینار میں دونوں طرف کے موقف کے تضاد سے واضح تھا۔ پنجاب کے سیاستدانوں اور دانشوروں نے محض معاشی محرومیوں کے ازالے کے حوالہ سے بلوچستان کے معاملہ کو سرپرستی کے انداز میں دیکھا جبکہ بلوچ سیاستدان اپنے بنیادی سیاسی اختیار کی بات کرتے رہے۔ چار قوم پرست بلوچ سیاستدان سنیٹر ثنا اللہ بلوچ، سنیٹر عبدالحی بلوچ، سنیٹر امان اللہ کنرانی اور بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی بلوچ۔ اس سیمینار میں شریک تھے اور انہوں نے بلوچستان کے مسائل پر اپنا موقف تفصیل سے بیان کیا۔ نواب اکبر بگتی کی جمہوری وطن پارٹی کے سینیٹر امان اللہ کنرانی نے کہا کہ پاکستان تو ستاون سال پرانا ہے اور بلوچستان کی تاریخ پانچ ہزار سال پرانی ہے اور اگر پاکستان نہ بھی بنتا تو بلوچستان موجود ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواب اکبر بگتی اس شاہی جرگہ کے رکن تھے جنہوں نے پاکستان کے حق میں ووٹ دے کر اس ملک کا قیام ممکن بنایا لیکن آج انہیں غدار کہا جاتا ہے اور صدر جنرل پرویز مشرف کے والد جو انگریزوں کے ملازم تھے وہ پاکستان کے دعویدار بنتے ہیں۔ امان اللہ کنرانی نے کہا کہ بلوچ کسی کے رعیت نہیں اور نہ انہیں احسان کی ضرورت ہے جیسا حمید گل نے کہا بلکہ انہیں اپنا وہ حق چاہیے جو خدا نے انہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچوں کو قدرتی گیس اور سمندری ساحل اللہ نے دیا ہے پاکستان نے نہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچوں کے وسائل پر بلوچوں کا حق تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ انیس سو تہتر کے آئین کو ذوالفقار علی بھٹو نے سویلین مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کی حیثیت سے ایسے منظور کرایا تھا جیسا کہ جنرل پرویزمشرف نے سترہویں ترمیم منطور کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت قومی اسمبلی میں بلوچستان کے پانچ میں سے تین ارکان اسمبلی نے اس آئین پر دستخط نہیں کیے تھے اور بلوچ اس آئین کے پابند نہیں ہیں۔ جمہوری وطن پارٹی کے سینیٹر کا کہنا تھا کہ وفاق کے پاس دفاع، خارجہ امور اور کرنسی کے صرف تین شعبے ہوں اور باقی تمام اختیارات صوبوں کو دے دیے جائیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ سترہ مارچ کو ڈیرہ بگتی میں فوجی آپریشن میں تہتر لوگ مارے گئے جن میں انیس بچے اور سات خواتین بھی شامل تھیں لیکن انکوائری کے لیے کمیشن نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ قوم ہے جس نے ملک ٹوٹنے پر کمیشن نہیں بنایا تو ڈیرہ بگتی کے واقعہ پر کیا بنائے گی! سینیٹر امان اللہ کا کہنا تھا کہ اس کا انجام بُرا ہوگا۔ بلوچستان میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈوکیٹ کا موقف تھا کہ پاکستان ایک وفاق اور کثیر القومی ملک ہے اور اس کے وفاق بننے میں رکاوٹ بلوچوں نے نہیں بلکہ جرنیلوں نے ڈالی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ وفاقیت کے لیے تحریری آئین، آزاد عدلیہ اور تقسیم اختیارات بشمول مالی اختیارات کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ سب چیزیں فوج کے جرنیلوں نے نہیں ہونے دیں۔ کچکول علی کا کہنا تھا کہ نناوے فیصد محصولات وصول کرنے کا اختیار آئین میں وفاق کے پاس ہے اور صوبوں کے لیے چھوڑے گئے جو شعبے چھوڑے گئے ہیں اُن کے اختیارات بھی وفاقی حکومت رولز آف بزنس کے تحت خود لے لیتی ہے۔ اُنہوں نے دعوی کیا کہ بلوچستان کی قدرتی گیس سے ایک سال میں چوراسی ارب روپے آمدن ہوتی ہے جس میں سے اسلام آباد بلوچستان کو بھکاریوں کی طرح صرف چار پانچ ارب روپے دیتا ہے۔ انہوں نے بعض مقررین کی طرف سے بلوچ سرداروں پر کی گئی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سرداروں کی قربانیاں ہیں اور ایک تاریخی پس منظر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں کشیدگی ایک سیاسی شعور کی وجہ سے ہے کیونکہ لوگوں کو معلوم ہے کہ گائے ہماری ہے اور دودھ اسلام آباد اور پنجاب لے جاتا ہے۔ کچکول علی نے صوبائی حقوق کے لیے آئین میں تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ بلوچ طلبا کی قوم پرست تنظیم بلوچستان اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے سابق رہنما اور سنیٹر ثنااللہ بلوچ نے کہا کہ گیارہ اگست انیس سو سینتالیس کو انگریزوں، پاکستان اور خان قلات کے درمیان معاہدہ ہوا تھا اور قلات کی آزاد حیثیت مانی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح خان قلات کو پاکستان میں شامل کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے پانچ مرتبہ بلوچستان گئے اور سترہ اور ستائیس مارچ انیس سو اڑتالیس میں بلوچستان کے والیان ریاست کے الحاق کے معاہدہ کے بعد یہ پاکستان کا حصہ بنا۔ سنیٹر ثنا اللہ بلوچ نے کہا کہ اس معاہدہ کے صرف بیس روز بعد ہی بلوچستان پر فوجی آپریشن کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج گوادر کے بارے میں بلوچوں کے خدشات کی ایک تاریخ ہے کیونکہ کوئٹہ کی تمام خوبصورت زمینیں وہاں مقرر کیے گئے غیر بلوچ کمشنروں نے اپنے رشتے داروں میں بانٹ دیں۔ سنیٹر ثنا اللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بھارت سے تین جنگیں لڑیں اور اس کے دو تین ہزار سے زیادہ فوجی نہیں مارے گیے جبکہ بلوچستان میں اسلام آباد نے اب تک چار فوجی آپریشن کیے جن میں دس ہزار بلوچ مارے جاچکے ہیں اور پانچواں فوجی آپریشن جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان نے اپنی قدرتی گیس کے ذریعے انیس سو چھپن سے پاکستان کی معیشت کو سہارا دیا اوراس کی صنعتوں کو گیس فراہم کی۔ انہوں نے کہا کہ ستاون ملین کیوبک فٹ گیس سوئی سے روزانہ ملک کو فراہم کی جاتی ہے جبکہ کوئٹہ کو کویت کے زکوٰۃ اور خیرات کے دیے گئے پیسوں سے گیس فراہم کی گئی۔ ثنا اللہ بلوچ نے کہا کہ ملک میں تقریباً اٹھارہ ہزار میگا واٹ بجلی پیدا ہوتی ہے جبکہ بلوچستان کو اس میں سے صرف چار سو میگاواٹ بجلی ملتی ہے۔ اگر پاکستان بجلی کی زکوۃ بھی نکالے تو بلوچستان کو کم سے کم بارہ سو میگاواٹ بجلی ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اب تک تئیس کمشنر یا گورنر مقرر کیے گئے جن میں سے بائیس کا تعلق بلوچستان سے نہیں تھا۔ انہوں نے پوچھا کہ اس کے برعکس پنجاب میں اب تک کتنے بلوچوں کو گورنر لگایا گیا۔ ثنا اللہ بلوچ نے کہا کہ ان کے صوبہ میں فرنٹیئر کور کے تینتیس ہزار اہلکار تعینات ہیں جن میں سے صرف تین سو کا تعلق بلوچستان سے ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبہ کی پینسٹھ لاکھ آبادی میں ایف سی کی پانچ سو چوراسی چیک پوسٹیں ہیں اور گیارہ ہزار افراد پر ایک چیک پوسٹ موجود ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ حال تو کشمیر اور اسرائیل میں بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بارہ ہزار کوسٹ گارڈز ہیں جن میں سے صرف اٹھائیس افراد کا تعلق صوبہ سے ہے باقی سب باہر کے لوگ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں رینجرز میں بھرتی کی پالیسی الگ ہے اور بلوچستان کے لیے ایف سی میں بھرتی کی پالیسی الگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کوئی امن و امان کا مسئلہ نہیں اور وہاں بلوچوں کا تشدد کرنا جائز ہے کیونکہ بلوچوں کا تشدد اپنے تحفظ کے لیے ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچ جانتےہیں کہ بندوق کا مقابلہ بندوق سے ہی ہوسکتا ہے۔ یہ ردعمل ہے۔ سنیٹر ثنا اللہ بلوچ نے گوادر کے بارے میں کہا کہ وہاں کے لوگوں کے لیے پینے کا پانی نہیں ہے اور بجلی ایران سے آتی ہے جبکہ مقامی لوگوں میں ہیپاٹائٹس کا تناسب ستر فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر میں پلاٹ بیچنے کے لیے بلڈرز لوگوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں اور وہاں تیرہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے لیے اجازت نامے دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر گوادر میں ہاؤسنگ سوسائٹیاں بند نہ کی گئیں تو بلوچ ان پر زبردستی قبضہ کرلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج بلوچوں کی آواز پنجاب میں بھی سُنی جارہی ہے اور سمجھی جارہی ہے کیونکہ اب صرف پی ٹی وی کی اجارہ داری نہیں ہے ۔ سنیٹر ثنا اللہ بلوچ نے کہا کہ پنجاب کی نو کھاد کی فیکٹریاں اور گھروں کے چولھے سوئی کی گیس سے جل رہے ہیں۔ اس لیے پنجاب کا اپنا فائدہ اس میں ہے کہ بلوچوں سے زیادتی بند کی جائے۔ سنیٹر عبدالحی بلوچ نے صوبہ کی محرومیوں کا بیان کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں اکثر جگہوں پر پینے کا پانی تک موجود نہیں اور جانور اور انسان ایک تالاب سے پانی پیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک کی تین سو کارپوریشنوں میں سے کسی ایک کا سربراہ بلوچ نہیں اور سول اور ملٹری بیوروکریسی میں بلوچوں کی نماییندگی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حب بلوچستان میں ہے لیکن اس کے مزدور کراچی سے آتے ہیں۔انہوں نے کہا گوادر میں نہ پانی ہے نہ بجلی لیکن لینڈ مافیا ایک ایکڑ زمین ایک کروڑ روپے میں بیچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ملک میں آئین، پارلیمینٹ اور قانون کی بالادستی نہیں ہوتی یہ ملک نہیں چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ فوج اوراس کے ذیلی ادارے اس ملک کے عوام کو اپنے مسائل خود حل کرنے دیں اور تین شعبوں کے سوا تمام شعبوں کا اختیار صوبوں کو دیا جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||