BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 14 May, 2005, 00:16 GMT 05:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اغوا کا انداز، ناظم کی حراست

بلوچستان
بلوچستان میں انسداد منشیات کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ناظم کو تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا ہے
ضلع گوادر کی تحصیل پسنی کے ناظم ان کے بھائی اور دو لیویز اہلکار سمیت چھ افراد کو انسداد منشیات کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔

اے این ایف کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان سے منشیات اور اسلحے کی برآمدگی کے حوالے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ یہ کارروائی صبح چار بجے کی گئی ہے جس کی کوئی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔

پسنی میں یہ افواہ گردش کرنے لگی کہ ناظم معیار نوری کو چھ افراد سمیت اغوا کر لیا گیا ہے۔ تاہم بعد دوپہر معلوم ہوا کہ انھیں اے این ایف کے اہلکار اٹھا کر لے گئے ہیں۔

پسنی شہر میں لوگوں نے اس واقعے پر زبردست احتجاج کیا ہے اور نعرہ بازی کی ہے اس کے علاوہ ساحلی شاہراہ کو بلاک کیے رکھا۔

انسداد منشیات کے ادارے کے مطابق پسنی سے ایک گاڑی میں منشیات اور اسلحہ برآمد ہوا تھا اور جس مکان کے قریب گاڑی کھڑی تھی اس سے بھی بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا ہے جس کے لیے ناظم سے تفتیش کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ناظم کو پسنی واپس بھیجا جا رہا ہے اور کیس مقامی پولیس کے حوالے کیا جا رہا ہے۔

ناظم کے والد سید عیسی نوری نے کہا ہے کہ یہ کارروائی ذاتی ناپسندیدگی کی بنیاد پر کی گئی ہے ان کے خلاف اس طرح کے کوئی ثبوت نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا خاندان اس طرح کے کسی کارروائی میں ملوث رہا ہے۔

ناظم معیار نوری صوبائی وزیر ثقافت شیر جان بلوچ کے رشتہ دار ہیں۔ شیر جان بلوچ اور گوادر کے ناظم خود اے این ایف کے تربت کے دفتر پہنچ گئے تھے جہاں انھوں نے تحصیل ناظم کی رہائی کے لیے کوششیں کی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد