اغوا کا انداز، ناظم کی حراست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ضلع گوادر کی تحصیل پسنی کے ناظم ان کے بھائی اور دو لیویز اہلکار سمیت چھ افراد کو انسداد منشیات کے اہلکاروں نے حراست میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔ اے این ایف کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان سے منشیات اور اسلحے کی برآمدگی کے حوالے سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ یہ کارروائی صبح چار بجے کی گئی ہے جس کی کوئی وجوہات نہیں بتائی گئیں۔ پسنی میں یہ افواہ گردش کرنے لگی کہ ناظم معیار نوری کو چھ افراد سمیت اغوا کر لیا گیا ہے۔ تاہم بعد دوپہر معلوم ہوا کہ انھیں اے این ایف کے اہلکار اٹھا کر لے گئے ہیں۔ پسنی شہر میں لوگوں نے اس واقعے پر زبردست احتجاج کیا ہے اور نعرہ بازی کی ہے اس کے علاوہ ساحلی شاہراہ کو بلاک کیے رکھا۔ انسداد منشیات کے ادارے کے مطابق پسنی سے ایک گاڑی میں منشیات اور اسلحہ برآمد ہوا تھا اور جس مکان کے قریب گاڑی کھڑی تھی اس سے بھی بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد ہوا ہے جس کے لیے ناظم سے تفتیش کی گئی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ناظم کو پسنی واپس بھیجا جا رہا ہے اور کیس مقامی پولیس کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ ناظم کے والد سید عیسی نوری نے کہا ہے کہ یہ کارروائی ذاتی ناپسندیدگی کی بنیاد پر کی گئی ہے ان کے خلاف اس طرح کے کوئی ثبوت نہیں ہیں اور نہ ہی ان کا خاندان اس طرح کے کسی کارروائی میں ملوث رہا ہے۔ ناظم معیار نوری صوبائی وزیر ثقافت شیر جان بلوچ کے رشتہ دار ہیں۔ شیر جان بلوچ اور گوادر کے ناظم خود اے این ایف کے تربت کے دفتر پہنچ گئے تھے جہاں انھوں نے تحصیل ناظم کی رہائی کے لیے کوششیں کی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||