BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 June, 2005, 01:02 GMT 06:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی: ایم ایم اے کو روک دیا گیا

ایم ایم اے کا احتجاج
پولیس نے ایم ایم اے کے پچاس سے زاہد کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔
کراچی پولیس نے ایم یم اے کو جمعہ کے روز احتجاج کرنے نہیں دیا اورمظاہرین کو منتشر کرکے ایم ایم اے کے ایک ایم این اے اور ایک ایم پی اے سمیت پچاس سے زائد کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔

متحدہ مجلس عمل نے صوبائی حکومت اور گورنر کی برطرفی ، سابقہ ممبر اسمبلی اسلم مجاھد، جمال طاہر اور فرحان آصف سمیت دیگر رہنماؤں کے قتل اور امام بارگاہ مدینتہ العلم میں بم دہماکہ کے خلاف کراچی کے ریگل چوک سے مارچ کر کے سندہ اسمبلی کے باھر دہرنا دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔

کراچی پولیس کی ایک بڑی تعداد نے جمع کے روز دوپہر سے ہی ریگل چوک پر پوزیشن سنبھال لی تھیں۔ پولیس اہلکارروں جن میں سادہ کپڑے میں بھی اہلکار شامل تھے۔

متحدہ مجلس عمل کے رہمنا جیسے ہی شام چار بجے ریگل چوک پہنچے تو پولیس نے ان کو گرفتار کرلیا۔ پولیس نے اس موقع پر لاٹھیوں کا بھی استعمال کیا۔

ایم ایم اے کے کارکن حکومت سندھ اور گورنر سندھ کے خلاف نعرے بازی کر رہے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت دہشتگردوں کی سرپرستی کر رہ ہے۔

پولیس نے ریگل چوک کی دکانوں کو بند کروادیا تھا۔اور ٹرئفک کو بھی نہیں چلنے دیا۔ مارچ کو روکنے کے لیے سندھ اسمبلی کی جانب جانے والی تمام سڑکوں کو پانی کے ٹینکر کھڑے کر کے بند کردیا گیا تھا۔

ّڈی آئی جی کراچی مشتاق شاہ کا کہنا تھا کہ جو لوگ قانون ہاتھ میں لیں گے ان کو چھوڑا نہیں جاسکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معلوم نہیں کہ ایم ایم اے کے کتنے کارکن گرفتار کیے گئے ہیں۔

مشتاق شاہ نے کہا کہ پولیس نے دوکانیں دوکانداروں کے مفاد میں ہی بند کروائی تھیں تاکہ ان کو نقصان نہ پہنچا سکے۔

ایم ایم اے کے کچھ کارکنوں نے بعد میں پریس کلب کے باھر دھرنا دیا اور پولیس کے خلاف بھی احتجاج کیا۔

جماعت اسلامی کے ترجمان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں ایم این اے محمد حسین محنتی، سندہ اسمبلی میں ایم ایم اے کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر نصراللہ سمیت پچاس کارکنان شامل ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ کا تھا کہ ایم ایم اے پرتشدد احتجاج نہیں چاہتی تھی لیکن حکومت نے اسے پرتشدد بنادیا۔ پھر بھی ہم نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

سندہ اسمبلی کے بجٹ اجلاس کے دوران بھی متحدہ مجلس عمل کے ممبران اسمبلی یونس باران، حمید اللہ عمرصادق نے پلے کارڈ اٹھاکر اسپیکر کے نزدیک کھڑے ہوکر احتجاج کیا۔

ان کے ہاتھوں میں پلے کارڈوں پر گورنر کو برطرف کرو۔اسلم مجاھد کے قاتلوں کو گرفتار کرو کی عبارت لکھی ہوئیں تھیں۔

متحدہ مجلس عمل اور پی پی پی نے کچھ دیر کے لیے اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ بھی کیا۔

سندھ کے وزیر داخلہ روف صدیقی نے اسمبلی کے باہر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایم ایم اے کے الزامات غلط ہیں ۔ان کے ارکان اسمبلی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد