BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 April, 2005, 00:24 GMT 05:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایم ایم اے کی ریلی منسوخ

ایم ایم اے کی ریلی
ایم ایم اے نے کہا کہ حکومت مخالف تحریک جاری رہے گی
متحدہ مجلس عمل نے لاہور سے گوجرانوالہ تک اپنی احتجاجی ریلی منسوخ کر دی ہے اور کہا ہے یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے ان کے مطالبات کی منظوری کی یقین دہانی پر کیا گیا ہے۔

مجلس عمل نے پنجاب میں میراتھن دوڑ کے انعقاد کے خلاف اور مجلس عمل کے گرفتار کارکنوں کی رہائی کے لیے سنیچر کو لاہور سے گوجرانوالہ ریلی اور پھر گوجرانوالہ میں ایک جلسہ عام کا اعلان کر رکھا تھا۔

مجلس عمل کی صوبائی کونسل کے اجلاس کے بعد مجلس عمل کے رہنماؤں لیاقت بلوچ ،پیر اعجاز ہاشمی اور مولانامحمد امجدنےایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوۓ کہا کہ وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی نے مجلس عمل کو یقین دلایا ہے کہ اب پنجاب بھر میں کوئی مخلوط میراتھن دوڑ نہیں ہوگی اور حکومت مجلس عمل کے ان کارکنوں اور رہنماؤں کو رہا کردے گی جو دواپریل کی احتجاجی ہڑتال اور پھر گوجرانوالہ میں میراتھن دوڑ کو روکنے کے پرتشدد مظاہرے کے دوران گرفتار کیے گئے تھے اور اب صوبے کی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ پرویز الہی اور چودھری شجاعت حسین فون پر مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان اور مجلس عمل سے تعلق رکھنے والے وزیراعلی سرحد کو یقین دہانیاں کراتے رہے اور بالآخر انہوں نے وزیر اعلی سرحد کو اپنا ضمانتی بنا کر مطالبات کی منظوری کی یقین دہانی کروائی جو انہوں نے مان لی۔

لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ ان کے کارکنوں کی رہائی کا عمل شروع ہوچکا ہے اور اب تک گجرات، جہلم، راولپنڈی کے تمام کارکنوں کو رہا کیا جاچکا ہے۔ لاہور میں چالیس کارکن رہا ہوچکے ہیں اور انہیں توقع ہے کہ جلد ہی باقی بھی رہا ہوجائیں گے۔

مجلس عمل پنجاب کے صدر لیاقت بلوچ نے کہا کہ ریلی مشروط طور پر منسوخ کی گئی ہے اور اگر حکومت نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا تو پھر فیصل آباد لاہور اور گوجرانوالہ میں ہڑتال کی جاۓ گی اور جلسے جلوس اور ریلیاں ہونگی۔

اس سے پہلے پیپلز پارٹی کے قائدین نے کہا تھا کہ عین اسی روز آصف زرداری کا استقبالی جلوس بھی نکالا جانا ہے اس لیے وہ ریلی نہ نکالیں لیکن مجلس عمل نے پیپلز پارٹی کی درخواست کے باوجود اس ریلی کو منسوخ نہیں کیا تھا۔

بعد میں حکومت نے اعلان کیا تھا کہ صوبح میں عائد دفعہ ایک سو چوالیس کی وجہ سے کسی کو جلسےجلوس کی اجازت نہیں ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ تاحال حکومت کی جانب سے ایسا کوئی بیان سامنے نہیں آیا جس میں انہوں نے مجلس عمل کے کارکنوں کی رہائی پر مبنی مجلس عمل کے مطالبے کو منظور کرنے کا عندیہ دیا ہو۔ اور اب تک جتنے بھی کارکن رہا ہوۓ ہیں ان سب کی دراصل عدالتوں سے ضمانتیں منظور ہوئی ہیں۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ ریلی کی منسوخی کے فیصلے کے باوجود مجلس عمل کی حکومت مخالف تحریک جاری ہے اور اس ملک سے فوجی بالادستی کے مکمل خاتمے اور تہتر کے آئین کی اصلی شکل میں بحالی تک جدوجہد جاری رہے گی ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد