BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 April, 2005, 10:05 GMT 15:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گرفتاریوں پر اپوزیشن واک آؤٹ

قومی اسمبلی
قواعد کی رو سے حکومت پر لازم ہے کہ وہ کسی بھی رکن اسمبلی کی گرفتاری کی اطلاع سپیکر قومی اسمبلی کو دے۔
قومی اسمبلی میں جمعہ کو حزب اختلاف کی جماعتوں نے پیپلز پارٹی کے تین اراکینِ اسمبلی کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔

اپوزیشن ارکان نے ایوان میں دعوٰی کیا کہ حکومت نے پی پی پی کے رہنما آصف علی زرداری کے استقبال کے لیے لاہور جانے والے پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کو بڑی تعداد میں گرفتار کیا ہے۔آصف زرداری کل امارات کی ایک چارٹرڈ فلائیٹ سے لاہور پہنچ رہے ہیں۔

پی پی پی کے سیکریٹری جنرل اور رکن اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے ایوان کو بتایا کہ پولیس نے لاہور میں آج صبح پانچ بجے پارٹی کی خاتوں رکن اسمبلی ثمینہ گھرکی کو ان کے گھر سے گرفتار کیا جبکہ دو مزیر ارکان اسمبلی سرگودھا کے تسنیم قریشی اور سندھ کے منظور وسان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اس سے قبل حکومت اور حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں نے پی پی پی کی خاتون رکن اسمبلی ثمینہ گھرکی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی چوہدری امیر حسین سے مطالبہ کیا کہ وہ حکومت سے جواب طلبی کریں کہ اس نے ان ارکان کی گرفتاری کے بارے میں سپیکر کو کیوں مطلع نہیں کیا۔

سپیکر نے وزیر مملکت برائے امور داخلہ ڈاکٹر شہزاد وسیم کو کہا کہ وہ اپنے دفتر جا کر ان گرفتاریوں کے بارے میں معلومات لیں اور واپس آکر ایوان کو بتائیں کہ ان اراکین کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے مگر وزیر مملکت ایوان میں واپس نہیں آئے۔

اس سے قبل اپوزیشن ارکان نے اپنی تقاریر میں کہا کہ حکومت پی پی پی کے کارکنوں کو ان کے جمہوری اور آئینی حق سے روک رہی ہے۔ راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ حکومت ان کی پارٹی کے لوگوں سے بھارتی شہریوں کی طرح پیش آ رہی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے صوبہ پنجاب کو ملک کے دیگر صوبوں سے کاٹ دیا ہے اور اس وقت پنجاب اور سندھ کی سرحد پر ایک بڑی تعداد میں پی پی پی کے کارکنوں اور رہنماؤں کو روک لیا گیا ہے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت کے ان تمام تر ہتھکنڈوں کے باوجود پارٹی رہنما اور کارکن آصف زرداری کے استقبال کے لیے ہفتے کو لاہور ضرور پہنچیں گے۔

اس سے قبل متحدہ مجلس عمل کے حافظ حسین احمد نے کہا کہ قواعد کی رو سے حکومت پر لازم ہے کہ وہ کسی بھی رکن اسمبلی کی گرفتاری کی اطلاع سپیکر قومی اسمبلی کو دے۔

مسلم لیگ نواز کے خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت زرداری کے استقبال کرنے والوں کو روک کر اپنے غیر جمہوری رویے کا ثبوت دے رہی ہے۔

حکومتی رکن مہناز رفیع نے بھی ثمینہ گھرکی کی گرفتاری کی مذمت کی جبکہ دیگر حکومتی اراکین نور جہاں پانیزئی اور ریحانہ علیم مشہدی نے کہا کہ کل کو یہ حکومتی ارکان اسمبلی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے سپیکر سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر حکومت سے رابطہ کریں اور ان ارکان کی رہائی کے لیے بات کریں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد