BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 March, 2005, 15:32 GMT 20:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قومی اسمبلی: پیٹریاٹ کاواک آؤٹ

فیصل صالح
سپریم کورٹ نے بھی فیصل صالح کی ضمانت منسوخ کر دی تھی
پاکستان کے حکومتی اتحاد میں شامل پاکستان پیپلز پارٹی ’پیٹریاٹ‘ کے ارکان نے پیر کو پاکستانی قومی اسمبلی میں اپنی جماعت کے سیکریٹری جنرل اور وفاقی وزیر مخدوم فیصل صالح حیات کا نام ’ایگزٹ کنٹرول لسٹ‘ میں شامل کیے جانے کے خلاف واک آؤٹ کیا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ شہزاد وسیم نے ’پیٹریاٹ‘ کے اراکین کے احتجاج کے بعد ایوان کو بتایا کہ حکومت نے فیصل صالح حیات اور ان کے اہل خانہ کے نام ’ایگزٹ کنٹرول لسٹ‘ یعنی ای سی ایل میں نہیں ڈالے۔

قبل ازیں متعلقہ جماعت کے اراکین اسمبلی چودھری عمران اللہ اور ڈاکٹر نثار نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر برائے کشمیر اور شمالی علاقہ جات مخدوم فیصل صالح حیات کی کردار کشی کی مہم چلائی جا رہی ہے۔

انہوں نے اس کا ذمہ دار، حکومت کو تو قرار نہیں دیا البتہ قومی احتساب بیورو کا نام لے کر کہا کہ کیا بات ہے کہ آئے دن قرض حاصل کرنے کے ایک پرانے مقدمے کی خبریں شائع ہوتی ہیں۔ یہ کہتے ہی وہ ایوان سے باہر چلے گئے تو انہی کی جماعت کے دو وفاقی وزراء نوریز شکور اور ڈاکٹر شیرافگن نیازی اور پارلیمانی سیکریٹری سید تنویر حسین اپنی نشستوں پر براجمان ہی رہے۔

حزب اختلاف کی جماعت پیپلز پارٹی پارلیمینٹیرینز کے اراکین نے اس موقع پر ڈیسک بجاتے ہوئے وزراء کو آوازیں دیں کہ جائیں وہ بھی واک آؤٹ کریں۔ ایسے میں دونوں وزراء اپنی جماعت کے ناراض ساتھیوں کے پاس گئے اور انہیں منا کر واپس لائے۔ جبکہ پارلیمانی سیکریٹری اپنی نشست پر ہی رہے۔

واضح رہے کہ اکتوبر سن دوہزار دو میں عام انتخابات کے بعد بینظیر بھٹو کی زیرقیادت پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر منتخب ہونے والے مخدوم فیصل صالح حیات اور ان کے ہم خیال ساتھیوں نے وفاداری تبدیل کرتے ہوئے پیٹریاٹ کے نام سے نئی جماعت بناکر صدر جنرل پرویز مشرف کی حمایت کرتے ہوئے حکومت میں شمولیت اختیار کی تھی۔

فیصل صالح حیات نے اپنی ٹیکسٹائیل مل کے لیے بینک سے قرضہ لیا اور واپس نہیں کیا۔
قومی احتساب بیورو نے جان بوجھ کر قرضہ واپس نہ کرنے کے الزام میں فیصل صالح حیات کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کرلیا تھا۔ فیصل صالح حیات کی بعد میں ضمانت ہوگئی اور انہوں نے متعلقہ بینک سے قرض واپس کرنے کے لیے ایک معاہدہ بھی کیا۔

چند روز قبل عدالت اعظمیٰ نے وفاقی وزیر کی ضمانت منسوخ کردی جس کے بعد لاہور کی ایک احتساب عدالت نے اس مقدمے میں فیصل صالح حیات اور ان کے اہل خانہ کے نام ای سی ایل میں درج کرنے کا حکم دیا تھا۔

قومی اسمبلی میں جہاں حکومتی اتحاد کی جماعت نے واک آؤٹ کیا وہاں حزب مخالف نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی جانب سے ایران کو سینٹری فیوج فراہم کرنے کے متعلق وزیراطلاعات شیخ رشید احمد کے وضاحتی بیان کے خلاف علامتی واک آؤٹ کیا۔

پیر کے روز حزب مخالف نے تحریک التواء پیش کی اور وزیراطلاعات کے بیان کا معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے شیخ رشید احمد کے بیان کو غیرذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ملکی سلامتی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

وزیراطلاعات نے حزب مخالف کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کوئی نئی چیز نہیں کہی۔ انہوں نے ایران کو سینٹری فیوج فراہم کرنے کے متعلق ڈاکٹر عبدالقدیر کے اقراری بیان کا حوالہ دیا اور کہا کہ جو کچھ انہوں نے کہا ہے وہ کئی بار دنیا کے مختلف اخبارات میں ڈاکٹر خان سے منسوب کرکے شائع ہوچکا ہے۔

انہوں نے ڈاکٹر خان سے کسی کو پوچھ گچھ کرنے کی اجازت دینے یا انہیں کسی اور ملک کے حوالے کرنے کے بارے میں کہا کہ اس کی کسی کو ہرگز اجازت نہیں دی جائےگی۔ وزیر نے دعویٰ کیا کہ جوہری سائنسدان کو معافی دلانے میں ان کا بڑا ہاتھ رہا ہے اور انہوں نے اس ضمن میں سید شریف الدین پیرزادہ سے مل کر کافی کوشش کی۔

سپیکر نے حزب اختلاف کی تحریک التویٰ پر رولنگ محفوظ کرلی اور حزب ختلاف نے وزیر کے بیان پر عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے علامتی واک آؤٹ کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد