’معاملہ ثالثی کمیٹی میں طے ہوچکا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی وزیر فیصل صالح حیات کے وکیل کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی قرضوں کی نادہنگی سے متعلق ثالثی کمیٹی میں وفاقی وزیر کے قرضے کی دانستہ نادہندگی کا معاملہ طے پاچکا ہے اس لیے احتساب عدالت میں انہوں نے وفاقی وزیر کو اس ریفرنس میں بری کرنے کے لیے درخواست دائر کردی ہے۔ فصیل صالح حیات کی بیوی شاہدہ فیصل کی درخواست پر پانچ سال بعد فیصلہ سناتے ہوئے سپریم کورٹ نے انہیں دی گئی ضمانت تو منسوخ کی تھی لیکن ساتھ احتساب عدالت سے کہا تھا کہ وہ اسٹیٹ بینک کی ثالثی کمیٹی کی سفارشات کو سامنے رکھتے ہوئے اور قانون کے مطابق میرٹ پر اس ریفرنس کا فیصلہ کرے۔ فیصل صالح کے ترجمان جہانگیر لودھی نے بی بی سی کو کہا کہ ریفرنس احتساب عدالت میں زیر سماعت ہے اور وفاقی وزیر کو احتساب عدالت پر مکمل اعتماد ہے۔ وفاقی وزیر کے لاہور میں وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ انہوں نے فیصل صالح حیات کی بریت کے لیے احتساب عدالت میں ضابطہ فوجداری کی دفعہ دو سو پینسٹھ کی کارروائی کے تحت بریت کی درخواست دے دی ہے جس میں موقف لیا گیا ہے کہ میرٹ پر یہ قرض کی دانستہ نادہندگی کا کیس نہیں بنتا اور اسٹیٹ بینک کی بنائی ہوئی ثالثی کمیٹی نے بھی فیصل صالح حیات کی درخواست منظور کر لی ہے اور قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کو بھی اس سے مطلع کردیا گیا ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو اقتدار سنبھالنے کے بعد بینکوں کے قرضے دانستہ طور پر ادا نہ کرنے والے نادہندگان کو قرضے ادا کرنے کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی تھی۔ سولہ نومبر انیس سو ننانوے کو یہ مہلت ختم ہونے کے بعد اگلے ہی روز فیصل صالح حیات کو شاہ جیونہ ٹیکسٹائل ملز کے لیے یونائیٹڈ بینک سے لیے گئے قرضے ادا نہ کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ نے ان کی بیوی شاہدہ فیصل کی طرف سے دائر کی گئی حبس بے جا کی درخواست مسترد کردی تھی جس پر وہ سپریم کورٹ چلی گئیں جس نے فیصل صالح کو جولائی دو ہزار چار میں ضمانت پر رہا کردیا تھا اور احتساب عدالت کو ریفرنس کی سماعت جاری رکھتے ہوئے کوئی فیصلہ نہ سنانے کا عبوری حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے ایک تین رکنی بینچ نے نے سنہ دو ہزار سے شروع ہونے والے اس مقدمہ کا اب تفصیلی فیصلہ جاری کیا ہے۔ فیصل صالح حیات کے وکیل خواجہ حارث نے بی بی سی کو بتایا کہ فیصل صالح اس کے فیصلہ پر وضاحت کے لیے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست بھی دائر کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر پانچ سال سے ضمانت پر ہیں اور انہوں نے ضمانت کی خلاف ورزی نہیں کی اور سپریم کورٹ کے اپنے سابقہ فیصلوں کی روشنی میں ایسے مقدموں میں ضمانت منسوخ نہیں کی جاتی۔ وکیل نے کہا کہ ضمانت کے لیے فیصل صالح حیات قانون کے مطابق مناسب فورم لاہور ہائی کورٹ سے بھی رجوع کرسکتے ہیں جہاں انہوں نے ابھی تک ضمانت کی کوئی درخواست دائر نہیں کی بلکہ صرف ان کی بیوی نے حبس بے جا کی درخواست دائر کی تھی جو رد کردی گئی۔ احتساب قانون کے تحت احتساب عدالت سے ملزم کو ضمانت پر رہا نہیں کیا جاسکتا۔ تاہم وکیل کا کہنا ہے کہ ابھی اس بارے میں غور کیا جارہا ہے کہ کیا قانونی راستہ اختیار کیا جائے۔ گزشتہ چار سال کے دوران میں سپریم کورٹ میں فیصل صالح حیات کی بیوی کی زیر سماعت درخواست کے ساتھ ساتھ لاہور کی احتساب عدالت میں قومی احتساب بیورو کی طرف سے دائر ریفرنس کی سماعت بھی ہوتی رہی ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے پانچ سال پہلے فیصل صالح کو ضمانت پر رہا کرتے ہوئے احتساب عدالت سے یہ بھی کہا تھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے سے پہلے وہ اپنی سماعت تو جاری رکھے لیکن کوئی فیصلہ نہ سنائے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس ریفرنس کی سماعت کا ایک بڑا حصہ مکمل ہوچکا ہے جس میں نیب کی شہادتیں ریکارڈ ہوگئی ہیں۔ اب ملزم فیصل صالح حیات کا بیان مکمل ہوگا اور صفائی کے گواہ پیش ہوں گے جس کے بعد دونوں فریقین حتمی بحث کریں گے اور جج فیصلہ سنائیں گے۔ اس ریفرنس میں گزشتہ چند سماعتوں میں فیصل صالح حیات نے صفائی کا بیان ریکارڈ کروایا تھا جسے ابھی مکمل ہونا ہے۔ احتساب عدالت میں اپنے جزوی بیان میں فیصل صالح حیات نے عدالت سے کہا تھا کہ انہوں نے بینک سے قرضہ نہیں بلکہ مالیاتی سہولت لی تھی اور حکومت میں تبدیلی کے بعد بینک نے ان سے کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے تھے۔ لاہور میں احتساب عدالت کے جج رانا زاہد محمود اس ریفرنس کی سماعت کررہے ہیں اوران سے پہلے جج منیر احمد شیخ نے مقدمہ کی سماعت کی تھی لیکن وہ ریٹائر ہوگئے۔ رانا زاہد محمود وہ جج ہیں جنہوں نے ایک مقدمہ میں آصف علی زرداری کی درخواست ضمانت منظور کی تھی۔ اس مقدمہ کی آخری پیشی احتساب عدالت میں آخری پیشی چھبیس فروری کو مقرر تھی جب فیصل صالح نے اپنا بیان مکمل کرنا تھا لیکن ان کے وکیل نے دفتری وجوہ کی بنا پر ان کے مصروف ہونے کا عذر پیش کیا تھا اور عدالت نے اگلی سماعت کے لیے عدالت سے بارہ مارچ کی پیشی لے لی تھی۔ بارہ مارچ کو احتساب عدالت میں اس مقدمہ کی سماعت کے موقع پر فیصل صالح حیات کے ترجمان جہانگیر لودھی کے مطابق وہ ملک میں نہیں ہوں گے اس لیے امکان یہی ہے کہ وہ اس پیشی پر بھی عدالت میں حاضر نہیں ہوسکیں گے اور ان کا صفائی کا بیان مکمل نہیں ہوسکے گا۔ فیصل صالح کے وکیل نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ دو سو پینسٹھ کے تحت فیصل صالح کی بریت کے لیے جو درخواست دائر کی ہے وہ درخواست ہی بادی النظر میں بارہ مارچ کو عدالت میں زیر سماعت آسکے گی۔ قومی احتساب بیورو (نیب) کے پراسیکیوٹر جنرل عرفان قادر نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد اب فیصل صالح حیات کو گرفتار کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ احتساب عدالت طے کرے گی اس لیے بارہ مارچ کی لاہور احتساب عدالت کی پیشی فیصل صالح حیات کے خلاف ریفرنس کیس میں اہم موڑ ثابت ہوسکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||