سخت سپیکر، اے آر ڈی واک آؤٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی میں گزشتہ چند دنوں کے دوران حکومت اور حزب مخالف کے درمیان خوشگوار ماحول اور متفقہ قانون سازی بھی کی لیکن پیر کے روز ایک بار پھر ہلہ گلہ دیکھنے میں آیا۔ جہاں سپیکر چودھری امیر حسین کا لب و لہجہ معمول کے برعکس یعنی سخت رہا وہاں حزب مخالف کے اتحاد ’اے آر ڈی‘ نے واک آؤٹ کیا اور کورم کی نشاندہی کر کے اجلاس کی کارروائی ایک گھنٹے سے زیادہ موخر کرا دی۔ وقفہ سوالات سے قبل ہی نکتہ اعتراضات پر اراکین نے بات شروع کردی راجہ پرویز اشرف اور لیاقت بلوچ نے مختاراں مائی کیس کے پانچ ملزمان کی بریت کے خلاف بات کی اور حکومت سے متاثرہ خاتون کو تحفظ دینے کا مطالبہ کیا۔ اس دوران ایم پی بھنڈارا سمیت کچھ حکومتی اراکین نے رائے دی کہ پہلے وقفہ سوالات نمٹایا جائے اور بعد میں نکتہ اعتراضات پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔ ایسے میں جب مائیک بینظیر بھٹو کی سیکریٹری ناہید خان کو ملا تو انہوں نے اپنے روایتی انداز میں سپیکر پر مختاراں مائی کے معاملے پر بات کرنے سے روکنے پر تنقید کی۔ سپیکر نے انہیں خاصے سخت لہجے میں بیٹھنے کا حکم دیا اور مائیک بند کردیا۔ سابق وزیر تعلیم سید خورشید شاہ نے سپیکر سے کہا کہ وہ اراکین کو آرام سے ’تشریف رکھیں‘ کہیں اور’ سٹ ڈاؤن‘ نہ بولیں۔ سپیکر نے کہا انگریزی میں کہے گئے جملے کا مقصد بھی وہ ہی ہے۔ جس پر ایوان اور گیلریوں میں قہقہہ پڑا۔ وقفہ سوالات شروع ہوا اور تو ساٹھ سے زیادہ وزراء اور مشیروں میں سے بیشتر غائب تھے اور پہلے ہی سوال کا جواب دینے کے لیے جب پارلیمانی سیکریٹری اٹھے تو حزب مخالف کے بعض اراکین نے شیم شیم کے نعرے لگائے اور کہا کہ بڑی بڑی تنخواہیں لینے والے وزراء کہاں ہیں؟ اجلاس میں ایوان کو مطلع کیا گیا کہ تقریبا چھ کروڑ روپوں کی لاگت سے دینی مدارس کو کمپیوٹر فراہم کرنے کا منصوبہ رواں سال کے وسط میں ختم ہوجائے گا۔ وزارت تعلیم کی جانب سے تحریری طور پر پیش کردہ معلومات میں بتایا گیا کہ میرٹ اور کوٹہ کے مطابق ملک بھر کے ایک سو اسی مدارس کو نو سو کمپیوٹر اور تین سو ساٹھ پرنٹر فراہم کیے گئے ہیں۔ ناہید خان نے اپنی جماعت کے اراکین کے ہمراہ کیفے ٹیریا میں صحافیوں سے بات چیت میں سپیکر کے رویہ پر تنقید کی۔ انہوں نے بعد میں اجلاس کے دوران بھی اس معاملے پر احتجاج کیا اور ایوان کی کارروائی سے علامتی واک آؤٹ کیا۔ حزب مخالف کے دو بڑے اتحادوں ’اے آر ڈی، اور متحدہ مجلس عمل نے گو کہ مشترکہ جدوجہد کا اعلان کیا ہے لیکن جب ناہید خان کے مسئلے پر ’اے آر ڈی‘ والے واک آؤٹ کر گئے تو مجلس عمل کے اراکین نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ اس دوران جب وزیر مملکت برائے خزانہ عمر ایوب مالی سال سن دوہزار دو اور تین کے دوران مختلف محکموں کے بجٹ کے بارے میں آڈٹ رپورٹس پیش کرنا چاہتے تھے تو مجلس عمل کے رکن مولانا محمد خان شیرانی نے ایک آئینی مسئلہ چھیڑ دیا کہ ان رپورٹس کا اردو ترجمہ کیوں پیش نہیں کیا گیا۔ انہوں نے آئین کی متعلقہ دفعات پڑھتے ہوئے کہا کہ سن انیس سو تہتر کے متفقہ طور پر منظور کردہ آئین میں لکھا ہے کہ اس کے نفاذ کے پندرہ برس کے اندر اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنا لازمی ہے اور اس کی کیوں خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ کچھ حکومتی اراکین کا کہنا تھا کہ آئین کی متعلقہ شق میں ایسا نہ ہونے کی صورت میں متبادل طریقہ تجویز نہیں ہے اس لیے اس کا اطلاق لازمی نہیں۔ سپیکر نے ایک موقع پر تمام اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئین نہیں پڑھتے لہٰذا فوری طور پر آئین کی کتابیں کھولیں۔ اس وقت بیشتر وزرا اور اراکین کے پاس آئین کی کتاب ہی نہیں تھی۔ اس دوران ’اے آر ڈی، والوں نے متحدہ مجلس عمل سے بات چیت کی اور ان کے تمام اراکین ایوان سے خاموشی کے ساتھ نکل گئے۔ جس کے ساتھ ہی فوزیہ وہاب نے کورم کی نشاندہی کردی اور کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے کارروائی موخر کردی گئی۔ واضح رہے کہ موجودہ اسمبلی نے کورم ٹوٹنے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ ’اے آر ڈی‘ اور سپیکر میں بعد میں مذاکرات بھی ہوئے لیکن معاملہ طے نہیں ہوسکا۔ ’اے آر ڈی‘ والےایوان سے چلے گئے، سپیکر کارروائی چلاتے رہے اور متحدہ مجلس عمل والےایوان میں موجود رہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||