وفاقی وزیر ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آج لاہور کی ایک احتساب عدالت نےقرضہ کی نادہندگی کے ریفرنس کی سماعت کرتے ہوئے محکمہ داخلہ کو اس مقدمہ کے ملزم اور وفاقی وزیر فیصل صالح حیات کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈالنے کا حکم دیا اور ان کے ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کردی۔ لاہور کی احتساب عدالت کے جج رانا زاہد محمود فیصل صالح حیات کے خلاف شاہ جیونہ ٹیکسٹائل ملز کے واجب الاد قرضہ کی دانستہ نادہندگی کے ریفرنس کی سماعت کررہے ہیں۔ قومی احتساب بیورو یا نیب کی طرف سے دائر کیے گئے اس ریفرنس میں سپریم کورٹ پہلے ہی فیصل صالح حیات کی ضمانت منسوخ کرچکی ہے۔ فیصل صالح حیات اس وقت ایک سرکاری دورہ پر ملک سے باہر ہیں اور گزشتہ پیشی کی طرح وہ آج بھی احتساب عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ ان کے وکیل خواجہ حارث نے عدالت سے کہا کہ وہ پندرہ مارچ کو لندن سے واپس آئیں گے اس لیے انہیں عدالت میں حاضری سے استثنا دیا جائے۔ جج نے وکیل صفائی سے کہا کہ فیصل صالح حیات کو گئے اتنے دن گزر گئے اور اب استثنا کی درخواست اتنے دیر بعد کیوں داخل کرائی جارہی ہے جس پر وکیل صفائی نے کہا کہ وفاقی وزیر کا سرکاری دورہ دو ماہ پہلے شیڈول ہوچکا تھا لیکن انہیں اس بارے میں علم نہیں تھا۔ وکیل صفائی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک کی ثالثی کمیٹی میں اس قرضہ کا معاملہ طے پاچکا ہے اور اسٹیٹ بنک کے گورنر نے نیب کے چئرمین کو اس بارے میں آگاہ کردیا ہے اس لیے قانون کے مطابق اب احتساب عدالت میں اس ریفرنس کی سماعت نہیں ہونی چاہیے۔ جج نے دونوں طرف کے وکلا سے کہا کہ چونکہ فیصل صالح حیات کی ضمانت منسوخ ہوچکی ہے اس لیے اب یہ سنجیدہ معاملہ ہے اور انہیں بتایا جائے کہ کیا فیصل صالح حیات کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں یا ان کے ضمانتیوں کو نوٹس بھیجے جائیں یا فصیل صالح حیات کو عدالتی حراست میں لیا جائے۔ وکیل صفائی نے فیصل صالح حیات کو حراستو میں لیے جانے کے خلاف بحث کرتے ہوئے کہا کہ فصیل صالح حیات کی سپریم کورٹ سے ضمانت نہ تو میرٹ پر منسوخ کی گئی اور نہ بادی النظر میں بلکہ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ میں حبس بے جا کی درخواست مسترد کیے جانے کے فیصلہ کو بحال نہیں کیا اور اس کے نتیجہ میں فیصل صالح حیات کی ضمانت منسوخ ہوئی ہے اور ان کے مچلکے بھی منسوخ نہیں ہوئے۔ وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ فیصل صالح حیات کے خلاف ریفرنس میں تفتیس مکمل ہوچکی ہے اس لیےانہیں حراست میں لینے کے ضرورت نہیں۔وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ اور چئیرمین نیب نے عدالت عظمی سے ضمانت منسوخ ہونے کے بعد ان کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری نہیں کیے جس سے لگتا ہے کہ چئرمین نیب کی انہیں گرفتار کرنے میں دلچسپی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بنک کی ثالثی کمیٹی کی رپورٹ چئرمین نیب کو ملنے کے بعد ان کے لیے اسے ماننا لازمی ہوتا ہے اور اگر وہ اسے تسلیم نہ کریں تو وہ عدالت کو تحریری طور پر اپنے اعتراض سے آگاہ کرتے ہیں جو انہوں نے نہیں کیا۔ دوسری طرف نیب کے وکیل ایس ایم ناظم کاکہنا تھا کہ ضمانت منسوخ ہونے پر ملزم قانون کے مطابق مفرور قرار دیاجاتا ہے اور اب عدالت پر منحصر ہے کہ وہ اس بارے میں کیافیصلہ کرتی ہے۔ نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل الیاس میاں نے اس بات کی تصدیق کی کہ نیب کو یہ اطلاع مل گئی ہے کہ فیصل صالح حیات کے قرضہ کے معاملہ پر ثالثی کمیٹی میں معاملہ طے پاچکا ہے۔ احتساب جج نے فیصل صالح حیات کی استثنا کی درخواست پر فیصلہ چودہ مارچ تک کے لیے محفوظ کرلیا۔ جج نے نیب کے وکیل سے کہا کہ عدالت کو تحریری طور پر بتایا جائے کہ ثالثی کمیٹی میں معاملہ طے پانے کے بعد اس پر مزید کیا کاروائی ہوئی۔ عدالت نے محکمہ داخلہ کو ایک ملزم اور پی آئی اے کے پائلٹ شہزاد ظہور کے سوا فیصل صالح حیات سمیت اس ریفرنس کے تمام دوسرے ملزموں کے نام ای سی ایل پر ڈالنے کا حکم دیا اور کہا کہ یہ ملک سے باہر نہیں جاسکتے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||