BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 09 March, 2005, 16:13 GMT 21:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قومی اسمبلی: اپوزیشن کا احتجاج

News image
مطالبے کی نامنظوری پر اپوزیشن کے ارکان جاوید ہاشمی کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے چلے گئے
پاکستان کی قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے سپیکر چودھری امیر حسین کی طرف سے مسلم لیگ نواز کے اسیر رہنما جاوید ہاشمی کو ایوان میں لانے کے درخواست نا منظور کرنے پر واک آؤٹ کیا۔

مسلم لیگ نواز کی ایک اور رہنما تہمینہ دولتانہ نے بدھ کو ایوان میں نکتہ اعتراض پر سپیکر سے کہا کہ اگر وہ خود کو با اختیار ثابت کرنا چاہتے ہیں تو انہیں جاوید ہاشمی کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دینے چاہیں مگر سپیکر نے ان کی درخواست نہیں مانی۔

اس کے بعد متحدہ مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد نے کہا کہ ان کے برابر کی نشست جاوید ہاشمی کے نہ ہونے کی وجہ سے مسلسل خالی ہے۔ پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ نے کہا کہ سپیکر کو ثابت کرنا ہو گا کہ وہ غیر جانبدار ہیں۔

سپیکر کی طرف سے اس مطالبے کی نامنظوری کے بعد حزب اختلاف کے ارکان جاوید ہاشمی کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے چلے گئے۔ تاہم کچھ دیر بعد وہ حکومتی ارکان کی طرف سے منانے پر واپس آگئے۔

آج مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت کی اچانک لندن روانگی سے سیاسی حلقوں میں چھ میگوئیاں شروع ہو گئی ہیں اور قیاس ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ لندن میں موجود مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف سے ملاقات کریں گے۔ تاہم حکومت اور مسلم لیگ کے ذرائع اس کی تردید یا تصدیق نہیں کر رہے ہیں اور فی الوقت یہی بتایا جا رہا ہے کہ چوہدری شجاعت علاج کے لئے لندن گئے ہیں۔

پنجاب کے وزیر اعلی چودھری پرویز الہی پہلے ہی لندن میں موجود ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد