قومی اسمبلی: اپوزیشن کا احتجاج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے سپیکر چودھری امیر حسین کی طرف سے مسلم لیگ نواز کے اسیر رہنما جاوید ہاشمی کو ایوان میں لانے کے درخواست نا منظور کرنے پر واک آؤٹ کیا۔ مسلم لیگ نواز کی ایک اور رہنما تہمینہ دولتانہ نے بدھ کو ایوان میں نکتہ اعتراض پر سپیکر سے کہا کہ اگر وہ خود کو با اختیار ثابت کرنا چاہتے ہیں تو انہیں جاوید ہاشمی کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دینے چاہیں مگر سپیکر نے ان کی درخواست نہیں مانی۔ اس کے بعد متحدہ مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد نے کہا کہ ان کے برابر کی نشست جاوید ہاشمی کے نہ ہونے کی وجہ سے مسلسل خالی ہے۔ پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ نے کہا کہ سپیکر کو ثابت کرنا ہو گا کہ وہ غیر جانبدار ہیں۔ سپیکر کی طرف سے اس مطالبے کی نامنظوری کے بعد حزب اختلاف کے ارکان جاوید ہاشمی کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے ایوان سے چلے گئے۔ تاہم کچھ دیر بعد وہ حکومتی ارکان کی طرف سے منانے پر واپس آگئے۔ آج مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت کی اچانک لندن روانگی سے سیاسی حلقوں میں چھ میگوئیاں شروع ہو گئی ہیں اور قیاس ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ لندن میں موجود مسلم لیگ نواز کے رہنما اور سابق وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف سے ملاقات کریں گے۔ تاہم حکومت اور مسلم لیگ کے ذرائع اس کی تردید یا تصدیق نہیں کر رہے ہیں اور فی الوقت یہی بتایا جا رہا ہے کہ چوہدری شجاعت علاج کے لئے لندن گئے ہیں۔ پنجاب کے وزیر اعلی چودھری پرویز الہی پہلے ہی لندن میں موجود ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||