ایم ایم اے کی عوام رابطہ مہم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
متحدہ مجلس عمل نے مئی میں حکومت کے خلاف رابطہ عوام مہم کا اعلان کیا ہے جو صرف صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں میں چلائی جائے گی۔ سنیچر کو لاہور میں جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں متحدہ مجلس عمل کی سپریم کونسل کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں اتحاد کی بڑی جماعت جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن شریک نہیں ہوئے۔ ان کی نمائندگی ان کی جماعت کے ارکان قومی اسمبلی حافظ حسین احمد اور عبدالغفور حیدری نے کی۔ سپریم کونسل کے اجلاس کے فیصلوں کی بریفنگ دیتے ہوئے جماعت اسلامی کے رکن قومی اسمبلی لیاقت بلوچ نے کہا کہ سپریم کونسل اس بات پر متفق تھی کہ آمریت اور لادینیت کے خلاف تحریک کا محور و مرکز پنجاب ہونا چاہیے کیونکہ پنجاب میں سیاسی بیداری اور تبدیلی قومی سطح پر تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ مجلس عمل کی سپریم کونسل نے حکومت سے کہا کہ وہ فوری طور پر مقامی حکومتوں کے انتخابات کا شیڈول جاری کرے اور یہ انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرائے جائیں۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ فوجی قیادت اور اس کی چھتری میں موجود سیاسی گروہ ایک دوسرے کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھارہے ہیں اور انہیں مقامی انتخابات میں اپنی شکست کا خوف ہے جس وجہ سے ان انتخابات کے شیڈول کا اعلان نہیں کیا جارہا۔ جماعت اسلامی کے رہنما نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کی جماعتیں مقامی حکومتوں کے انتخابات میں مشترکہ طور پر اہل امیدواروں کی کامیابی کے لیے کوشش کریں گی اور ایک دوسرے سے تعاون کو ترجیح دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف نے لادین امریکہ اور مغرب کو خوش کرنے کے لیے بے حیا ثقافتی پالیسیاں اختیار کی ہیں جن کی مجلس عمل کی سپریم کونسل نے سخت مذمت کی اور کہا کہ اس کی مزاحمت کے لیے مجلس عمل رائے عامہ کو بیدار اور منظم کرے گی۔ مجلس عمل نے مسئلہ کشمیر پر ایک قرارداد منظور کی جس میں صدر مشرف کی کشمیر پالیسی کو کشمیری شہدا کی قربانیوں اور کشمیریوں کی جدوجہد سے انحراف اور غداری قرار دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف نے پارلیمینٹ اور قومی سیاسی جماعتوں کو اس معاملہ پر اعتماد میں نہیں لیا۔ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے اس موقع پر کہا کہ مجلس عمل کی تحریک کے دو مقاصد ہیں۔ ایک تو ملک کے اسلامی نظریاتی تشخص کی حفاظت کرنا اور دوسرے عوام کو بدترین معاشی استحصالی نظام سے نجات دلانا۔ قاضی حسین احمد نے کہا کہ مجلس عمل کا مطالبہ ہے کہ پارلیمینٹ کو اقتدار اعلیٰ دیا جائے، دو اکتوبر سنہ انیس سو ننانوے سے پہلے کے آئین کو بحال کیاجائے اور آزاد الیکشن کمیشن کے تحت منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کرائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تین نکات پر ان کا مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں سے اتفاق ہوا تھا۔ جماعت اسلامی کے امیر کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف کے تحت کوئی عام انتخابات آزادانہ اور منصفانہ نہیں ہوسکتے اور نہ مجلس عمل کو قبول ہوں گے۔تاہم انہوں نے کہا کہ کسی بھی حالات میں کرائے گئے مقامی حکومتوں کے انتخابات میں مجلس عمل حصہ لے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان مقاصد کے لیے ان کے اتحاد برائے بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) سے رابطے ہیں اور ان کی مخدوم امین فہیم اور راجہ ظفرالحق سے ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اے آر ڈی کے تعاون کا خیر مقدم کریں گے۔ ایک سوال کے جواب میں قاضی حسین احمد نے کہا کہ مجلس عمل کی سپریم کونسل کا فیصلہ برقرار ہے کہ نیشنل سیکیورٹی کونسل کے اجلاس میں حصہ نہیں لیاجائے گا۔ یاد رہے کہ صوبہ سرحد میں متحدہ مجلس عمل حکومت میں ہے جبکہ بلوچستان میں وہ حکمران مسلم لیگ کے ساتھ مخلوط اتحاد میں شریک ہے۔ سندھ کے دارلحکومت کراچی میں ضلعی ناظم نعمت اللہ کا تعلق مجلس عمل کی رکن جماعت اسلامی سے ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||