BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 April, 2005, 17:00 GMT 22:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوج سے بات چل رہی ہے: امین فہیم

مخدوم امین فہیم
مخدوم امین فہیم فوج اور حکومت سے بات چیت چل رہی ہے
پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے صدر مخدوم امین فہیم نے کہا ہے کہ ’پیپلز پارٹی نے وردی کی حمایت نہیں کی ہے لیکن فوج ایک حقیقت ہے اس وقت سب کو تسلیم کرنا ہوگا کہ فوج کا ملک پر مکمل کنٹرول ہے اس لیے جمہوریت کے لیے کہیں درمیان سے راستہ نکالنا ہوگا۔‘

وہ گذشتہ روز نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم کی رہائش گاہ پر اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے بعض رہنماؤں کے ایک غیر رسمی اجلاس کے بعد ذرائع ابلاغ کے انمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے۔

انہوں نے بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ فوج اور حکومت سے ان کی بات چل رہی ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ ’وہ فوج اور حکومت سے آئین اور جمہوریت کی بحالی کی بات کر رہے ہیں اور سب کے لیے کوئی ’باعزت ‘راستہ چاہتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’وہ فوج اور سیاست کو آئین کے مطابق چلانا چاہتے ہیں۔‘

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’ان کی حکومت سے بات چیت ابھی اس مقام پر نہیں پہنچی کہ اس کا اعلان کیا جائے۔‘

پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف زرادری نے چند روز پہلے کہا تھا کہ وہ سٹیبلشمنٹ سے بات چیت کر رہے ہیں جس پر ایک طرف اتحاد بحالی جمہوریت کی ایک جماعت مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں نے اعتراض کیا ہے تو دوسری طرف مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد نے اسے مجلس عمل اور اے آر ڈی کے درمیان تحریری معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

مخدوم امین فہیم نے اس حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’اکتیس دسمبر کو قاضی حسین احمد نے انہیں اور اے آر ڈی کے رہنماؤں کو گھر رات کے کھانے پر بلایا تھا جنرل مشرف کی تقریر کے بعد قاضی حسین احمد نے کھانے کی میز پر ہی ایک کاغذ نکال کر اس پر ایک سطر تحریر کی’ جمہوریت کے لیے سب ملکر جدوجہد کریں گے‘۔

مخدوم امین فہیم نے کہا کہ ’قاضی حسین احمدنے اس پر دستخط کرنے کے بعد یہ کاغذ ان کی طرف بڑھا دیا جس پر انہوں نے بھی اس پر دستخط کیے اور چودھری نثار علی خان سمیت دوسرے رہمناؤں نے بھی دستخط کر دیئے تھے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’آصف زرداری کا بیان مجلس عمل سے کسی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہے اور پیپلز پارٹی کی جمہوریت کے لیے جدوجہد جاری ہے۔‘

مخدوم امین نے کہا کہ’پارٹی میں آصف زرادری کی بے حد اہمیت ہے اور انہیں مرکزی حثیت حاصل ہے لیکن مجلس عمل کو اس معاملے پر آصف زرداری کی بجائے براہ راست ان سے بات کرنی چاہیے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’مفاہمت کا عمل جاری ہے اور اگر کوئی مفاہمت ہوئی بھی تو وہ اے آر ڈی کے پلیٹ فارم سے ہی ہوگی۔‘

انہوں نے کہا کہ ’پیپلز پارٹی پہلے دن سے ہی حکومت سے ہونے والی بات چیت سے اے آر ڈی کے تمام رہنماؤں کو اطلاع دیتے رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ کبھی بھی مذاکرات کے دروازے بند نہیں کیے گئے۔ بے نظیرجب عمرہ کے لیے سعودی عرب گئی تھیں تو وہاں میاں نواز شریف نے کھانے کی دعوت دی جہاں دونوں کے درمیان معاہدہ ہوا تھا کہ وہ ملکر جمہوریت اور آئین کی بحالی کے لیے جدوجہد کریں گے اور جو بھی مذاکرات ہونگے صرف اے آر ڈی کے پلیٹ فارم سے ہونگے۔‘

مخدوم امین فہیم نے کہا کہ ’وہ اس عہد پر قائم ہیں لیکن پھر بھی اگر مسلم لیگ نواز کو کوئی تحفظات ہیں تو وہ اسے دور کرنے پر تیار ہیں اور اے آر ڈی کےآئندہ سربراہی اجلاس میں وہ مسلم لیگ نواز کے تحفظات دور کر دیں گے۔‘

ادھر سنیچر کو ہی لاہور میں انسداد منشیات سے متعلق ایک سمینار سے خطاب کے بعد اخبارنویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی پیٹریاٹ سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر برائے امور کشمیر فیصل صالح حیات نے کہا کہ’ ڈھائی سال پہلے جب انہوں نے پیٹریاٹ بنائی تھی تو اس وقت بے نظیر اور دوسرے رہنماؤں نے طعنہ دیا تھا کہ ’ہم وردی والے کاساتھ دے رہے ہیں‘۔اب پیپلز پارٹی والے بتائیں کہ وہ کس منہ سے وردی والے سے مذاکرات کر رہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ’ ڈھائی سال بعد ان کا موقف صیح ثابت ہوا ہے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد