اے آر ڈی: مسلم لیگ غیر حاضر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنیچر کو لاہور میں اتحاد برائے بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) کا ایک غیر رسمی سربراہی اجلاس ہوا جس میں اتحاد کی ایک بڑی جماعت مسلم لیگ شریک نہیں ہوئی۔ مسلم لیگ(ن) کے قائم مقام پارلیمانی رہنما چودھری نثار علی نے چند روز پہلے اعلان کیا تھا کہ آصف زرداری کے اسٹیبلشمینٹ سے مفاہمت کے حالیہ بیانات کے بعد ان کی جماعت اے آر ڈی سے تعلقات معطل رکھے گی اور آئندہ لائحہ عمل اعلی سطح پر پارٹی کے اجلاس میں طے کیا جائے گا۔ اے آر ڈی میں اس پھوٹ کے بعد آج اتحاد کے چئرمین اور پیپلزپارٹی پارلیمینٹرین کے چئرمین مخدوم امین فہیم لاہور آئے جہاں انہوں نے نوابزادہ نصراللہ مرحوم کے گھر پر اتحاد کی جماعتوں کے ایک غیررسمی اجلاس کی صدارت کی اور بعد میں پریس کو بریفنگ دی۔ ماضی میں ایسے غیررسمی اجلاس میں مسلم لیگ(ن) شریک ہوتی رہی ہے۔ آج پریس بریفنگ میں مخدوم امین فہیم نے مسلم لیگ(ن) کے خدشات دور کرنے کی بات کے ساتھ ساتھ آصف علی زرداری کے حالیہ بیانات کا دفاع کیا۔ مخدوم امین فہیم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ متحدہ مجلس عمل اور اے آر ڈی دو الگ الگ حقیقتیں ہیں۔ ملتان میں آج ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شوکت عزیز نے بھی کہا ہے کہ حکومت کے پیپلزپارٹی سے مذاکرات چل رہے ہیں لیکن حکومت اپنے موقف پر قائم ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||