BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 16 April, 2005, 21:13 GMT 02:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آصف زرداری کا مایوس کن استقبال؟

آصف زرداری
آصف زرداری کے ساتھ بھی شہباز شریف والا آپریشن کیا گیا بس انہیں ملک سے نکالا نہیں گیا
آصف علی زرداری کے لاہور میں استقبال سے ان لوگوں کو شدید مایوسی ہوئی ہو گی جو یہ شرطیں لگا رہے ہیں کہ آصف زداری ملک کے اگلے وزیر اعظم ہوں گے۔

آصف زرداری جو آٹھ سال کی قید کے بعد پیپلز پارٹی کے ’عملی سربراہ‘ کے طور پر ابھرے ہیں ، کا لاہور استقبال بہت سارے لوگوں کے لیے مایوس کن تھا۔

پولیس نے جب آصف زرداری کو لاہورآئیر پورٹ سے ان کے نئے بلاؤل ہاؤس میں بحفاظت پہنچایا ، تو لاہور ایسے پرامن تھا جیسے کوئی واقع ہوا ہی نہیں ہے۔

لاہور میں پولیس کے ناکوں کے علاوہ کوئی ایسی شہادت موجود نہیں تھی کہ شہر میں کوئی بڑا سیاسی رہنماء میں آیا ہے۔

جن لوگوں نے انیس سال پہلے بے نظیر بھٹو کا استقبال دیکھا تھا ان کو آصف زرداری کی لاہور آمد جو آواز سب سے زیادہ بلند سنائی دی گئی وہ شہر کی خاموشی تھی۔

انیس سال پہلے جب بنظیر بھٹو نے لاہور کی سرزمین پرقدم رکھا تو دس لاکھ لوگ اس کا استقبال کرنے کے لیے موجود تھے۔

ٹرکوں پر لگے لاؤڈ سپیکر، رنگ برنگے پیپلز پارٹی کے جھنڈے اور شہر میں ہر طرف بجنے والے پیلپز پارٹی کے گیت ، سب ہی غائب تھے۔ پیلپز پارٹی کے ورکرز جو ’جیالے‘ کے نام سے جانے سے جاتے ہیں کہیں نظر نہیں آرہے تھے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب پولیس نے آصف زرداری کے استقبال کے لیے آنے والوں کو روکنے کی پوری کوشش کی اور پنجاب کے علاقوں اور سندھ سے بسوں میں سوار پیپلز پارٹی کے حمایتوں کو روک دیا۔

پولیس نے کئی پریس فوٹوگرافروں سے کیمرے چھین لیے لیکن یہ سب کچھ اس بات کی وضاحت نہیں کرتا کہ لاہوریوں نے آصف زرداری کا استقبال کیوں نہیں کیا۔

پیپلز پارٹی کے ایک کونسلر شبیر شاہ نے کہا کہ پاکستان بھی ایک عجیب ملک ہے جہاں طالبان کو بنانے والوں کو تو جلسے کرنے کی اجازت ہے لیکن لبرل پارٹیوں کو یہ حق بھی حاصل نہیں ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لاہور کے نوجوان جو ساری ساری رات گھروں سے باہر بیٹھ کر جہموریت کی باتیں کرتے تھے کیوں خاموش ہو گئے ہیں۔ شاید روزگار ملنے کے بعد یہ نوجوان تھکے ہوئے گھروں کو لوٹتے ہیں یا ان کوپیپلز پارٹی سے کوئی امید وابستہ نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد