زرداری کی آمد: کس کو کیا ملا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پیپلزپارٹی کی چئرپرسن بے نظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری نے سنیچر کے روز وطن واپسی کے بعد لاہور میں ڈیرہ ڈال لیا ہے۔ لاہور چھاؤنی میں اُن کے گھر بلاول ہاؤس میں پی پی پی کے رہنماؤں، پارٹی کارکنوں اور ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کا ہجوم نظر آتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ سوال بھی سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے کہ کیا زرداری پیپلزپارٹی میں بھٹو خاندان سے آزاد خود اپنا ایک مقام بنا سکیں گے اور کیا بے نظیر بھٹو اس کی اجازت دیں گی؟ سیاسی حلقے اس بات پر بھی بحث کر رہے ہیں کہ آصف زرداری کی سولہ اپریل کو لاہور میں آمد کے موقع پر حکومت نے اتنی سختی کیوں دکھائی اور ائیرپورٹ تک کسی کو ان کے استقبال کے لیے جانے نہیں دیا۔ لوگ اس بات پر بھی حیران ہیں کہ حکومت نے آصف زرداری کو جلوس کی صورت میں داتا گنج بخش کے مزار تک پندرہ بیس کلومیٹر کا راستہ طے کرنے کیوں نہیں دیا؟ ایک جواب تو وزیراعلی پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے دیا ہے کہ زرداری سیاسی عمل میں شرکت کے بجائے افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں جس کی حکومت اجازت نہیں دے گی۔ دوسرے یہ کہا جارہا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف سے اُن کی اتحادی جماعتوں پیپلزپارٹی پیٹریاٹ اور مسلم لیگ(ق) نے کہا کہ زرداری صدر مشرف سے ڈیل کا تاثر دے کر حکومت کے اتحادیوں کو بُرابھلا کہہ رہے ہیں اور حکومت کے لیے مسائل پیدا کررہے ہیں۔ اس پر صدر مشرف نے حکومت کو اجازت دے دی کہ وہ زرداری کے جلوس کے بارے میں خود کوئی فیصلہ کرلے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا بیان اور حکومت کی اتحادی جماعتوں کے خدشات اپنی جگہ مگر حقیقت یہ ہے کہ آصف علی زرداری کے استقبالی جلوس کے پروگرام میں رکاوٹ اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں سے اس تاثر کو تقویت ملے گی کہ زرداری حزب مخالف کے بڑے سیاسی رہنما ہیں جن سے حکومت خطرہ محسوس کرتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے حکومت کو امن و امان کا کوئی بڑا مسئلہ بھی درپیش نہیں ہوا۔ زرداری نے اپنی آمد کے پروگرام کو دن کے سوا بارہ سے سوا سات بجے میں تبدیل کر کے حکومت کو سہولت مہیا کردی جسے وزیراطلاعات شیخ رشید احمد نے اُن کی سمجھ داری سے تعبیر کیا۔ اس طرح حکومت کا بھی کام ہوگیا کہ اُسے زرداری کی وجہ سے کوئی قابل ذکر دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ نہ گولی چلی، نہ آنسو گیس پھینکی گئی اور نہ ہی لاٹھی کا استعمال کیا گیا۔ اب زرداری بڑے آرام سے لاہور میں پنجاب کی سیاست کررہے ہیں، پریس کانفرنسوں سے خطاب کررہے ہیں، استقبالیوں میں جارہے ہیں اور دعوتوں میں مدعو کیے جارہے ہیں۔ آصف زرداری کو سولہ اپریل کے واقعات سے حزب مخالف کے رہنما کے طور پر جو پبلسٹی ملی اور ان کا جو امیج بنا اس پر ایک ردعمل تو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمٰن کا سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کا شو کمزور تھا اور عوام نے مشرف کے دوستوں کو مسترد کردیا۔ انہوں نے کہا کہ اصل اپوزیشن تو ایم ایم اے ہے جبکہ پیپلز پارٹی حکومت کے ساتھ ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے اس تازہ بیان کے برعکس سولہ اپریل سے چند روز پہلے مولانا نے آصف زرداری کو دعوت دی تھی کہ وہ لاہور کے بجائے پشاور اتریں تو مجلس عمل کی صوبائی حکومت ان کے استقبالی جلوس میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔ مولانا فضل الرحمٰن کی تشویش سمجھ میں آتی ہے۔ آصف علی زرداری نے بھی اپنی لاہور کی پریس کانفرنس میں ان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ پتا نہیں مولانا فضل الرحمٰن میں کیا چمک ہے کہ حکومت نے ان کو ریلیوں کی اجازت دے دی جبکہ انہیں نہیں دی۔ گویا اب آصف زرداری کا مجلس عمل سے بیان بازی کا میچ شروع ہوگیا ہے۔ دوسری طرف حکمران جماعت کے صدر چودھری شجاعت حسین اور پنجاب کے وزیراعلی چودھری پرویز الٰہی کے ساتھ ان کی مخالفانہ بیان بازی بھی جاری ہے۔ زرداری حکومت پر تنقید کررہے ہیں اور اسے نااہل بتارہے ہیں۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ حکومت پاکستان نہیں بچا سکتی، وہ بچا سکتے ہیں۔ حکومتی جماعت ان پر کیچڑ اچھال رہی ہے۔قصور کے جلسہ عام میں وزیراعلی پنجاب خود انہیں بدعنوان اور مفرور ملزم کہہ چکے ہیں۔ صوبائی وزراء اخباری بیانات میں انہیں مسٹر ٹین پرسینٹ اور بہت کچھ کہہ رہے ہیں۔ وفاقی وزیر شیخ رشید نے ان کے بارے میں کہا تھا کہ حکومت مارکوس کو نیلسن منڈیلا نہیں بننے دے گی۔ حال ہی میں متحدہ مجلس عمل نے ملین مارچ کے نام پر حکومت کے خلاف جلوس نکالے اور جلسے کیے اور دو اپریل کو ایک خاصی مؤثر ملک گیر ہڑتال بھی کروا ڈالی۔ یہ پہلی بار ہوا تھا کہ مذہبی جماعتوں نے مہنگائی جیسے سیکولر معاملہ پر ہڑتال کروائی۔ تاہم فوراً بعد ہی زرداری کے استقبال کامعاملہ شروع ہوگیا اور ساری توجہ زرداری پر چلی گئی۔ دیکھا جائے تو آصف علی زرداری کی صورت میں چودھری صاحبان اور متحدہ مجلس عمل پر چیک لگ گیا ہے۔اس کا فائدہ صدر جنرل پرویز مشرف کے علاوہ کسے ہوسکتا ہے۔ اب ان کے اتحادی بننے کے ایک سے زیادہ کھلاڑی میدان میں ہیں اور سب ایک دوسری کی ٹانگ کھینچنے میں مصروف ہیں۔ اسٹیبلشمینٹ کو اور کیا چاہیے؟ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||